جبری شادیوں کو روکنےکے لیے ڈاکٹروں کی تربیت

Image caption برطانیہ میں گذشتہ برس جبری شادیوں کے 1200 کیس سامنے آئے

برطانیہ میں دو سال قبل منظور ہونے والے ایک قانون کے تحت زبردستی کی شادی ایک مجرمانہ فعل ہے اور اب برطانیہ میں زیرِ تربیت ڈاکٹروں کو تربیت دی جا رہی ہے کہ وہ ایسے کیسوں کو روکنے میں کیسے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

برطانوی حکومت سمجھتی ہے کہ زبردستی کی شادی کو روکنے میں ہیلتھ ورکروں کا کردار اہم ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ برس برطانیہ میں زبردستی کی شادیوں کے 1200 کیس سامنے آئے تھے۔

برطانیہ میں زیر تربیت ڈاکٹروں کو سکھایا جا رہا ہے کہ وہ کیسے معلوم کر سکتے ہیں کہ ان کے پاس آنے والے مریض کو زبردستی کی شادی کا سامنا ہو سکتا ہے اور انھیں اس صورتحال سے بچانے کے لیے انھیں کس ادارے کو مطلع کرنا ضروری ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن دوسرے تعلیمی اداروں سے ایک قدم آگے بڑھ گیا ہے۔

بی بی سی نے شاہین اشہمت سے بات کی جو بارہ برس کی عمر میں پولیس اور سماجی کارکنوں کی مدد سے زبردستی کی شادی سے بچ گئی تھیں۔

شاہین اشہمت بتاتی ہیں:’جب میں بارہ برس کی تھی تو میں پولیس اور سوشل ورکروں کی مدد سے زبردستی کی شادی سے بچ نکلی تھی۔ پولیس کا خیال تھا کہ اگر میرا رویہ نہ بدلا تو مجھے پاکستان لے جا کر میری کسی اجنبی سے زبردستی شادی کر دی جائےگی۔‘

شاہین بتاتی ہیں کہ وہ گھر کی پچھلی کھڑکی سےاپنی چیزوں کو باہر پھینک کر باہر ایک منتظر کار تک پہنچ گئی تھیں۔ شاہین اشہمت بتاتی ہیں کہ اس واقعے کے ایک سال بعد انھوں نے اپنی زندگی کو ختم کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔

Image caption ڈیپریشن، خراب موڈ اور خود کو نقصان پہنچانے کے رجحان ایسے اشارے ہیں جن سے پتا لگایا جا سکتا ہے کہ اس مریض کو کن مسائل کا سامنا ہے

شاہین اشہمت اب زبردستی کی شادی اور ریپ کے متاثرین کی مدد کی لیے مہم چلاتی ہیں۔

ریسرچ نرس اسما اشرف یونیورسٹی کالج لندن میں طلبا کو تربیت دے رہی ہیں کہ ایسے کیسوں کا کیسے پتا لگایا جا سکے۔ وہ کہتی ہیں کہ ڈیپریشن، موڈ خراب، اور خود کو نقصان پہنچانے جیسے رجحان ایسے اشارے ہیں جن سے پتا لگایا جا سکتا ہے کہ اس مریض کو کن مسائل کا سامنا ہے۔ اسما اشرف بتاتی ہیں کہ ہیلتھ ورکر کو مریض کے حالات کو سمجھ کر ان کو صحیح اداروں کی طرف بھیجنے کی ضرورت ہے۔

ایک اور طالبعلم بتاتی ہیں کہ اکثر مریض ڈاکٹروں کو ایسی چیز بتا دیتے ہیں جو وہ کسی اور کو بتانا پسند نہیں کرتے۔

برطانیہ میں 2014 میں زبردستی کی شادی کو ایک مجرمانہ فعل قرار دیا گیا تھا۔

شاہین اشہمت کہتی ہیں کہ بعض کیسوں میں تو اس جرم کے ارتکاب کو روکنے کا صرف ایک ہی موقع ہوتا ہے۔

اسی بارے میں