برسلز ایئرپورٹ جزوی طور پر’دوبارہ کھلنے کے لیے تیار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عارضی نظام کے تحت ایک گھنٹے میں 800 مسافروں کی تصدیق کی جا سکتی ہے

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں حکام کے مطابق خودکش بم حملوں میں نشانہ بنائے جانے والے ایئر پورٹ کو جزوی طور پر دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہیں لیکن پروازوں کا سلسلہ جمعے کی شام سے پہلے شروع نہیں کیا جا سکے گا۔

22 مارچ کو برسلز کے زاوینتیم ایئر پورٹ پر ہونے والے دو خودکش دھماکوں کے بعد اسے پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔

ان دھماکوں کے نتیجے میں حکام کے مطابق 11 افراد ہلاک اور 81 زخمی ہو گئے تھے۔

ان دھماکوں کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

جمعرات کو کیے جانے والے اعلان سے قبل زاوینتیم ایئرپورٹ پر ایک عارضی نظام کے کئی دن تک تجربات کیےجاتے رہے۔

ایئرپورٹ حکام کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’برسلز ایئرپورٹ کمپنی نے مسافر پروازوں کے جزوی آغاز کا فیصلہ آگ بجھانے والے ادارے اور بیلجیئم سول ایوی ایشن کے حکام کی اجازت کے بعد کیا ہے۔‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ایئر پورٹ نے ایک عارضی چیک ان نظام کے تحت مسافر پروازوں کو دوبارہ شروع کرنے کی تکنیکی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔‘

’لیکن حکام کو ابھی پروازوں کے دوبارہ آغاز کی حتمی تاریخ کا باقاعدہ اعلان کرنا ہے۔ اس لیے جمعے کی شام سے قبل برسلز ایئرپورٹ سے کوئی بھی مسافر پرواز نہیں اڑائی جائے گی۔‘

بیان کےمطابق عارضی نظام کے تحت ایک گھنٹے میں 800 مسافروں کی تصدیق کی جا سکتی ہے جبکہ عام دنوں میں کام کرنے والا نظام اس سے کہیں زیادہ تیزی سے کام کرتا تھا۔

’بہرحال، سامان حاصل کرنے اور پروازوں کی آمد والے علاقے کو دھماکوں سے جزوی طور پر نقصان پہنچا تھا جسے معمولی مرمت کے بعد استعمال کے قابل بنا دیا گیا تھا۔‘

چیف ایگزیکٹو آرناد فیسٹ نے اس ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ ایئرپورٹ کو دوبارہ کھولنے میں کئی ماہ لگیں گے۔

ادھر برسلز ایئرپورٹ کی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے حملوں سے قبل ہی ایئرپورٹ کی سکیورٹی پر تنقید کی تھی۔

پولیس نے بیلجیئم کے نشریاتی ادارے وی آر ٹی پر ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایئرپورٹ کی سکیورٹی کی مجموعی صورتحال کے بارے میں روزانہ کی بنیادوں پر خبردار کرتے رہے تھے۔

پولیس نے شکایت کی ہے کہ ’ایئرپورٹ پر مسافروں اور ان کے سامان کی چیکنگ کے لیے ایئرپورٹ میں داخل ہونے سے لے کر ان کی جامہ تلاشی تک کوئی سکیورٹی کنٹرول موجود نہیں تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption خودکش دھماکوں میں 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے

پولیس نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ ایئرپورٹ کے کئی ملازمین مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہ چکے تھے۔

پولیس ابھی تک ایئرپورٹ دھماکوں میں ملوث تیسرے شخص کی تلاش میں ہے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق اس شخص نے ٹوپی پہن رکھی ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ دھماکوں سے قبل ہی منظر سے غائب ہوگیا تھا۔

دھماکے میں ہلاک ہونے والے دو خود کش بمباروں کے نام نجیم العشراوی اور ابراہیم البکراوی بتائے گئے ہیں۔

بکراوی کے بھائی خالد البکراوی نے میل بیک میٹرو سٹیشن پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔

بعد میں پولیس کو وہ کمپیوٹر بھی ملا جس میں ابرہیم البکراوی نے اپنا آخری پیغام چھوڑا تھا۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ اس ہی کمپیوٹر میں بیلجیئم کے وزیراعظم چارلس مچل کے آفس اور گھر کی تصاویر اور ایک منصوبہ بھی موجود تھا۔

اسی بارے میں