ترکی پناہ گزینوں کو’زبردستی واپس شام‘ بھیج رہا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پانچ سال قبل شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے تقریباً 27 لاکھ پناہ گزین ترکی آئے

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ترکی مبینہ طور پر ہزاروں پناہ گزینوں کو زبردستی شام واپس بھیج رہا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوری کے وسط سے روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 100 شامی شہریوں کو جنگ سے متاثر ملک واپس بھیجا جاتا ہے۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اُن کی رپورٹ میں یورپی یونین اور ترکی کے درمیان حالیہ معاہدے کی خامیوں کو بے نقاب کیا گیا ہے، اِس معاہدے کا مقصد یونان میں پناہ گزینوں کی آمد روکنا تھا۔

ترکی نے کسی بھی پناہ گزین کو اُس کی مرضی کے بغیر واپس بھیجنے کی تردید کی ہے۔

* معاہدے کے بعد بھی پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ جاری

*پناہ گزینوں کی کشتی پر ترک محافظوں کے لاٹھیوں سے وار

ایمنسٹی کی یہ رپورٹ، ترکی اور یورپی یونین کے درمیان طے پائے گئے حالیہ معاہدے کے تحت، یونان سے پناہ گزینوں کے پہلے قافلے کی واپسی سے چند روز قبل منظر عام پر آئی ہے۔

عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ جنوبی ترکی میں کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ترک حکام جنوری کے وسط سے تقریباً روزانہ سو افرادکے گروہ کو حراست میں لے رہے ہیں اور اُن کو ملک سے بے دخل کر رہے ہیں جبکہ بے دخل افراد میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شامی پناہ گزینوں کی اب بھی یونان میں آمد کا سلسلہ جاری ہے

عالمی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت ریاست کسی بھی شخص کو جنگ کا شکار ملک واپس نہیں بھیج سکتی ہے۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ ایک کیس میں والدین کے بغیر اُن کے تین بچوں کو زبردستی واپس بھیج دیا گیا، جبکہ ایک اور معاملے میں آٹھ ماہ سے حاملہ خاتون کو زبردستی واپس بھیجا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اِن میں زیادہ تر غیر رجسٹرڈ پناہ گزین شامل ہیں جبکہ کچھ رجسٹرڈ پناہ گزینوں کو بھی واپس بھیجاگیا ہے، جن کے پاس دستاویزات موجود نہیں تھی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر برائے یورپ اور وسطی ایشیا جان ڈولسن کا کہنا ہے کہ ’بڑے پیمانے پر پناہ گزینوں کی واپسی اور غیر انسانی سلوک واقعی افسوسناک ہے۔ ترکی کو فوری طور پر اِس سب کو بند کرنا چاہیے۔‘

یورپی یونین اور ترکی کے درمیان طے پائے معاہدے کے تحت، غیر قانونی طور پر یونان آنے والے پناہ گزینوں نے پناہ کی درخواست نہ کی ہو یا اُن کی درخواست مسترد کر دی گئی ہو تو اُن کو چار اپریل سے ترکی بھیجے جانے کا امکان ہے۔

جس کے بدلے میں ترکی کو امداد اور سیاسی رعایت فراہم کی جائے گی۔

لیکن معاہدے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اِس کا انحصار ترکی کا پناہ کے لیے محفوظ ملک ہونے پر ہے جبکہ ایمسنٹی کا کہنا ہے کہ واضح طور پر یہ معاملہ نہیں ہے۔

ڈولسن کا کہنا ہے کہ ’سرحدیں بند کرنے کی شدید خواہش میں یورپی یونین کے رہنماؤں نے جان بوجھ کر حقائق کو نظر انداز کر دیا ہے کہ ترکی شامی پناہ گزینوں کے لیے محفوظ ملک نہیں ہے اور یہ روز بروز کم محفوظ ہوتا جا رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ برس دس لاکھ سے زائد پناہ گزینوں کشتیوں کے ذریعے سے ترکی کے راستے یونان پہنچے ہیں

’بڑے پیمانے پر شامی پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالے سے ہم نے یورپی یونین اور ترکی کے معاہدے کی خامیوں کو واضع کیا ہے۔ یہ وہ معاہدہ ہے جس پر بوجھل دل کے ساتھ عمل کیا جا سکتا ہے اور یہ عالمی قوانین کو نظر انداز کرتا ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’ترکی میں شامی پناہ گزینوں کی حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے دباؤ ڈالنے کے بجائے یورپی یونین ترکی کو مراعات دے رہی ہے۔‘

جنوری میں بی بی سی کی رپورٹ میں اِن الزامات سے پردہ اُٹھایا گیا تھا کہ شامی پناہ گزینوں کو زبردستی واپس بھیجنے سے قبل ترکی میں زیر حراست رکھا جاتا ہے۔

ایک پناہ گزین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فوجی اہلکار اُن کو شامی سرحد تک لے گئے، جہاں اُن سے ایک صحفے پر زبردستی دستخط کرائے گئے جس پر’میں شام واپس جانا چاہتا ہوں‘ تحریر تھا۔

پانچ سال قبل شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے تقریباً 27 لاکھ پناہ گزین ترکی آئے ہیں۔ اِن میں سے زیادہ تر دونوں ممالک کی سرحد کے قریب کیمپ میں رہائش پذیر ہیں۔

ترکی کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے شامی پناہ گزینوں کے لیے ’دروازے کھلے رکھنے‘ کی پالیسی کو برقرار رکھا ہے اور لوگوں کو واپس نہ بھیجنے کے اُصول پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔

ترک وزارت خارجہ کے ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹر کا بتایا ہے کہ ’کسی بھی شامی شہری کو جس نے ہمارے ملک سے تحفظ کا مطالبہ کیا ہو، اُس کو قومی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق زبردستی واپس نہیں بھیجا گیا ہے۔‘

سرحدی انتظامات سخت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

گذشتہ برس دس لاکھ سے زائد پناہ گزینوں کشتیوں کے ذریعے سے ترکی کے راستے یونان پہنچے ہیں۔ جس سے خطے میں سیاسی بحران نے جنم لیا تھا۔

پناہ گزینوں کی بین الاقوامی تنظیم کے مطابق صرف اِس سال ایک لاکھ 43 ہزار سے زیادہ پناہ گزین آئے اور تقریباً 360 پناہ گزین ہلاک ہوئے ہیں۔

زیادہ تر پناہ گزین جرمنی اور دیگر شمالی یورپی ممالک جانے کے خواہش مند تھے، لیکن اِس وقت شمالی راستہ بند ہونے کی وجہ سے ہزاروں پناہ گزین یونان میں محصور ہوگئے ہیں۔

انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین اور ترکی کے معاہدے سے پناہ گزین ممکنہ طور پر دوسرے اور زیادہ خطرناک راستوں کا استعمال شروع کر سکتے ہیں۔ جیسے کے شمالی افریقہ اور اٹلی کا درمیانی راستہ۔

اسی بارے میں