آذربائیجان کی جانب سے یکطرفہ سیز فائر کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نگورنو قرہ باغ کی سرکاری ویب سائٹ پر ایک ہیلی کاپٹر دکھایا گیا ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کا تعلق آذربائیجان سے تھا اور اسے مار گرایا گیا

کوہِ قاف میں واقع متنازع علاقے نوگورنو قرہ باخ میں آذر بائیجان اور آرمینیا کے فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد آذر بائیجان نے یکطرفہ طور پر سیز فائر کا اعلان کر دیا ہے۔

آذر بائیجان کی وزارتِ دفاع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ان کے ملک نے بین الاقوامی برادری کی جانب سے تشدد کے خاتمے کی اپیل کے بعد ایسا کیا ہے۔

٭آرمینیا اور آذربائیجان میں جھڑپیں

اتوار کو بھی دونوں جانب جھڑپیں جاری رہیں۔ اب تک 30 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متاثرین میں شہری بھی شامل ہیں۔

فریقین نے اس لڑائی میں مارٹراور توپ خانے جیسے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔

نوگورنو قرہ باخ میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان کئی عشروں کی بدترین جھڑپوں میں درجنوں افراد مارے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس سے قبل آرمینیا کا کہنا تھا کہ اس کے 18 فوجی جنگوں میں ہلاک ہوئے ہیں، جب کہ آذربائیجان کے مطابق اس کے 12 فوجی مارے گئے ہیں۔

نوگورنو قرہ باخ 1994 میں جنگ کے خاتمے کے بعد سے آرمینی علیحدگی پسندوں کے قبضے میں ہے۔

روس نے، جو دونوں فریقوں کو اسلحہ فروخت کرتا ہے، فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور دونوں ملکوں سے کہا ہے کہ وہ ضبط کا مظاہرہ کریں۔

آذربائیجان نے کہا ہے کہ اس کی مسلح فوج پر بڑے دہانے کے توپ خانے اور گرینیڈ لانچروں سے حملہ کیا گیا، اور اس نے دو دفاعی لحاظ سے اہم پہاڑیوں اور ایک گاؤں پر قبضہ کر لیا ہے۔

آذربائیجان کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آذربائیجان نے خلوص کا مظاہرہ کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا فیصلہ کیا ہے۔‘

تاہم آذربائیجان نےواضح کیا ہے کہ اگر دوباہر حملہ ہوا تو وہ بھی ردِعمل دیں گے۔

اس سے قبل ترکی کے صدر نے کہا تھا کہ وہ جھڑپیں بند کرنے کے لیے آذربائیجان کی حمایت کرتے ہیں۔

نوگورنو قرہ باخ نے، جسے آرمینیا کی پشت پناہی حاصل ہے، کہا ہے کہ جھڑپوں کے دوران ایک 12 سالہ لڑکا ہلاک اور دو بچے زخمی ہوئے ہیں۔

روسی خبررساں ادارے انٹرفیکس کے مطابق روسی وزیرِ دفاع سرگے شوئگو نے اپنے آرمینی اور آذری ہم منصبوں سے فون پر بات کی ہے۔

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان سنہ 1980 کی دہائی کے آخر میں لڑائی شروع ہوئی تھی جو سنہ 1991 میں کھلی جنگ کی شکل اختیار کر گئی۔

سنہ 1994 میں ہونے والی جنگ بندی سے پہلے اس لڑائی میں ایک اندازے کے مطابق 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یہ خطہ آذربائیجان کی حدود کے اندر ہے تاہم اس پر آرمینی نسل کے لوگوں کا کنٹرول ہے۔

اسی بارے میں