’نواز شریف کے بچوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ

پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے پاناما پیپرز کے ریلیز کے بعد کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کے بچے کوئی غیر قانونی کام نہیں کر رہے۔

پاناما پیپرز کے منظر عام پر آنے کے بعد سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان پر تنقید کی گئی تھی۔

وزیرِ اطلاعات نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہا کہ ’اب جو پاناما کےڈاکومینٹس سامنے آئے ہیں ان میں نواز شریف صاحب کے نام سے اور شہباز شریف صاحب کے نام سے کسی قسم کی کسی پراپرٹی کے بارے میں، کسی کمپنی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان کے الزامات غلط تھے۔‘

انھوں نے تحریک انصاف کے سربراہ سے کہا کہ ’وہ شرمندگی کا اظہار کریں اور جن کا دل دکھایا ہے ان سے معافی نہیں تو معذرت کر دیں۔‘

پرویز رشید نے کہا کہ میاں نواز شریف کے بچے کافی عرصے سے باہر ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’ان کے فیملی ممبرز آج سے نہیں ایک طویل عرصے سے باہر ہیں۔ ان کے بڑے بیٹے تقریباً سنہ 1992 سے باہر ہیں جبکہ دوسرے بیٹے سنہ 1997 کے بعد سے باہر رہنا شروع ہو گئے تھے۔ دونوں بچوں کو زبردستی پاکستان آنے سے روک دیا گیا تھا۔ انھوں نے اپنے کریئر کا آغاز وہاں سے کیا۔ اورصرف یہ دو بچے نہیں جو باہر ملکوں میں کاروبار کر رہے ہیں بلکہ لاکھوں پاکستانیوں کے لاکھوں بچے بھی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’وزیرِ اعظم کے بچوں کا ہر اثاثہ قانون کے مطابق ہے اور وائٹ منی سے بنایا گیا ہے اور اسی سے گروتھ ہو رہی ہے۔ اس پر جو ٹیکس ہیں دونوں بچے ادا کرتے ہیں اور اس میں کوئی لاقانونیت نہیں ہے۔‘

دوسری جانب وزیراعظم نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے آف شور کمپنیوں کی ملکیت کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خاندان نے کچھ غلط نہیں کیا ہے۔

حسین نواز کے مطابق ان کے کاروباری معاملات قانونی ہیں۔

حسین نواز نے جیو ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ’اپارٹمنٹس ہمارے ہیں اور آف شور کمپنیاں بھی ہماری ہیں، اس میں کچھ غط نہیں ہے اور میں نے کبھی اسے پوشیدہ نہیں رکھا۔ وہ پاکستان میں رہائش پذیر نہیں ہیں اور انھیں اپنے اثاثے ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں تھی، ہم کسی بھی کاروبار میں مکمل طور پر تمام قواعد و ضوابط کی پاسداری کرتے ہیں۔‘

پاناما ٹیکس لِیکس

بڑے پیمانے پر خفیہ دستاویزات افشا ہونے سے پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر کے چوٹی کے امیر اور طاقتور افراد اپنی دولت کیسے چھپاتے ہیں۔

ان افراد میں کئی ملکوں کے سربراہانِ حکومت اور سیاسی رہنما شامل ہیں۔

یہ دستاویزات پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا سے افشا ہوئیں اور ان کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ ہے۔

٭سوئس بینک میں پاکستانیوں کے تقریباً ایک ارب ڈالر

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ 40 برسوں سے بے داغ طریقے سے کام کر رہی ہے اور اس پر کبھی کسی غلط کام میں ملوث ہونے کا الزام نہیں لگا۔

دستاویزات میں دنیا کے 73 حالیہ یا سابقہ سربراہانِ مملکت، بشمول آمروں، کا ذکر کیا گیا ہے، جن پر اپنے ملکوں کی دولت لوٹنے کا الزام ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاناما پیپرز، جس کی بنیاد پر یہ انکشاف ہوا ہے، اس نے ’پاور پلیئرز‘ کے عنوان کے تحت دنیا کے کئی اہم لوگوں کی فہرست دی ہے، اور اس فہرست میں نواز شریف کے تین بچوں کا بھی ذکر ہے۔

آئی سی آئی جے کے ڈائریکٹر جیرارڈ رائل کہتے ہیں کہ یہ دستاویزات پچھلے 40 برسوں میں موساک فونسیکا کی روزمرہ کی سرگرمیوں کا احاطہ کرتی ہیں۔

انھوں نے کہا: ’میرے خیال سے یہ انکشافات ’آف شور‘ دنیا کو پہنچنے والا سب سے بڑا صدمہ ثابت ہوں گے۔‘

اس ڈیٹا میں ان خفیہ آف شور کمپنیوں کا ذکر ہے جن کے مصر کے سابق صدر حسنی مبارک، لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی اور شام کے صدر بشار الاسد کے خاندانوں اور ساتھیوں کے ساتھ روابط ہیں۔

اس کے علاوہ اس میں ایک ارب ڈالر پر مشتمل کالا دھن سفید کرنے والے ایک گروہ کا بھی ذکر ہے جسے ایک روسی بینک چلاتا ہے اور جس کے روسی صدر ولادی میر پوتن کے قریبی ساتھیوں کے ساتھ روابط ہیں۔ دولت کی ترسیل آف شور کمپنیوں کے ذریعے کی جاتی تھی، جن میں سے دو کے سرکاری طور پر مالک روسی صدر کے قریبی دوست تھے۔

موسیقار سرگے رولدوگن لڑکپن سے روسی صدر کے ساتھی ہیں۔

کاغذوں میں رولدوگن نے مشتبہ سودوں میں کروڑوں ڈالر کمائے ہیں۔ لیکن ان کی کمپنیوں کی دستاویزات کے مطابق: ’یہ کمپنی ایک پردہ ہے جس کے قیام کا مقصد اس کے اصل مالک کی شناخت چھپانا ہے۔‘

کمپنی کا موقف

موساک فونسیکا کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ’ہر ممکن احتیاط سے کام کرتی ہے اور اگر اس کی خدمات کا غلط استعمال ہوا ہے تو اسے اس پر افسوس ہے۔

’اگر ہمیں کسی مشکوک سرگرمی یا بدمعاملگی کا پتہ چلا تو ہم فوراً اسے حکام کے علم میں لاتے ہیں۔ اسی طرح جب حکام ہمارے پاس کسی قسم کی بدمعاملگی کے شواہد لاتے ہیں تو ہم ہمیشہ ان کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہیں۔‘

موساک فونسیکا کا کہنا ہے کہ آف شور کمپنیاں دنیا بھر میں پائی جاتی ہیں اور انھیں کئی جائز مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ایک امیر کلائنٹ امریکی ارب پتی اور لائف کوچ میریانہ اولزوسکی کو حکام سے پیسہ چھپانے کے لیے جعلی ملکیت پیش کی گئی تھی۔

یہ منی لانڈرنگ اور ٹیکس سے بچنے کو روکنے کے لیے بنائے گئے بین الاقوامی قوانین کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔

ایک ای میل سے جو کہ موساک ایگزیکٹو کی جانب سے مس اولزوسکی کو جنوری 2009 میں بھیجی گئی تھی، معلوم ہوا ہے کہ وہ کیسے بنک کو دھوکہ دے سکتی ہیں۔

’ہم ایک ایسے شخص کا استعمال کریں گے جو کہ اس اکاؤنٹ کے مالک کی طرح عمل کرے گا۔ اور اسی لیے اس کا نام بینک کو ظاہر کر دیا جائے گا۔ چونکہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے اس لیے اس کی فیس بہت زیادہ ہوگی۔‘

بی بی سی کی جانب سے پوچھے گئے سوالات پر مس اولزوسکی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

موساک فونسیکا نےایک بیان میں کہا ہے کہ ’آپ کے الزامات کہ ہم اصل مالک کی شناحت کو چھپانے کے لیے ایسا سٹرکچر مہیا کرتے ہیں مکمل طور پر غلط اور بنا دلیل کے ہیں۔‘

افشا ہونے والے دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ آئسلینڈ کے وزیرِ اعظم سگمندر گنلاؤگسن اور ان کی اہلیہ نے سنہ 2007 میں ایک آف شور کمپنی ’ونٹرس‘ خریدی تھی۔ تاہم 2009 میں جب وہ پارلیمنٹیرین بن رہے تھے تو انھوں نے اس کمپنی میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی۔ انھوں نے ونٹرس کا 50 فیصد حصہ اپنی اہلیہ کو آٹھ ماہ بعد ہی صرف ایک ڈالر میں فروخت کر دیا تھا۔

سگمندر گنلاؤگسن سے اب ان کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس پر ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کوئی قانون شکنی نہیں کی ہے اور ان کی اہلیہ کو ان کے فیصلے سے کوئی مالی فائدہ نہیں ہوا ہے۔

اسی بارے میں