تہران میں’سر نہیں ڈھانپنا تو متبادل پرواز کی سہولت‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایئر فرانس نے سال 2008 میں ایران کے لیے اپنی سروس کو معطل کر دیا تھا

فرانس کی ایئر فرانس نے تہران کے لیے 17 اپریل سے شروع کی جانے والی پروازوں پر تعینات عملے میں شامل خواتین اگر سکارف استعمال نہیں کرنا چاہتی تو وہ متبادل پرواز کا انتخاب کر سکتی ہیں۔

اس سے پہلے ایئر فرانس نے کہا تھا کہ اس کی پروازوں پر موجود خواتین اہلکاروں کو تہران پہنچنے پر اپنے سر کو ڈھانپ کے رکھنا ہو گا۔

ایئر فرانس کی انتظامیہ کی جانب سے خواتین اہلکاروں کو کہا تھا کہ تہران جانے والی پرواز میں پاجامہ پہننا ہو گا جبکہ تہران میں جہاز سے نکلنے سے پہلے سر کو ڈھانپ کر رکھنا ہو گا۔

یونین کے اہلکاروں کے مطابق عملے کی چند ارکان نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے نرم کرنے کا کہنا تھا۔

پیر کو یوننز سے ملاقاتوں کے بعد ایئر فرانس کے ایک ڈائریکٹر ژیل دالوز نے یورپ ون چینل کو بتایا کہ وہ ایک سمجھوتے کی پیشکش کرنے پر تیار ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ پیرس- تہران پرواز میں خواتین ملازمین کو ایک نئی پیشکش کر رہے ہیں کہ اگر کسی کو ذاتی وجوہات کی بنا پر جہاز سے باہر نکلتے ہوئے سکارف نہیں لینا تو انھیں کسی دوسری منزل پر جانے والی پرواز پر بھیجا جا سکتا ہے۔

ژیل دالوز کے مطابق ان کی کمپنی کو فضائی میزبانوں سمیت متعدد خواتین ملازمین نے بتایا تھا کہ اس ضابطے سے انھیں مسائل کا سامنا ہے۔

اختتام ہفتے پر ایئر فرانس نے کہا تھا کہ اس سے پہلے متبادل پرواز لینے کی سہولت سعودی عرب جانے والی پروازوں پر بھی موجود ہے۔

ایئر فرانس نے سال 2008 میں ایران کے لیے اپنی سروس کو معطل کر دیا تھا تاہم اب ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں سے معاہدے کے بعد ایئر فرانس نے اپنی پروازوں کو 17 اپریل سے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں