ترکی بھیجے جانے والوں میں زیادہ تعداد پاکستانیوں کی

Image caption ترکی پہنچنے والے پناہ گزینوں میں زیادہ تر پاکستانی ہیں

یورپی یونین کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے کے تحت یونان سے پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کا عمل شروع ہو گیا ہے اور یونان سے پناہ گزینوں کو لے کر پہلی کشتی ترکی پہنچ گئی ہے۔

پیر کے روز یونان کے جزیرے لیزبوس سے مغربی ترکی کے علاقے دکیلی پہنچنے والے 136 پناہ گزینوں میں زیادہ تعداد پاکستانیوں کی ہے۔

معاہدے کے مطابق ہر اس شامی پناہ گزین جسے ترکی بھیجا جائے گا کی جگہ یورپی یونین اس شامی پناہ گزین کو لے گا جس نے قانونی طور پر درخواست دی ہو۔

اب تک ترکی سے جرمنی پہنچنے والے پہلے شامی پناہ گزینوں کی تعداد 16 ہے۔

تاہم یونان کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ترکی بھیجے جانے والے پہلے گروپ میں شامی شامل نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پناہ گزینوں کے بحران کے درمیان یونان سے ان کی واپسی کا عمل شروع ہو رہا ہے

ان کا مزید کہنا ہے کہ اس گروپ میں بنگلہ دیش، سری لنکا اور مراکش کے وہ شہری شامل ہیں جنھوں نے پناہ کی درخواست جمع نہیں کروائی تھی۔

خیال ہے کہ معاہدے کا مقصد مغربی یورپ میں لوگوں کی بے ضابطہ آمد میں کمی لانا ہے۔ یورپ میں داخلے کے لیے پناہ گزین بڑی تعداد میں سمندر کا خطرناک سفر اختیار کرتے ہیں۔

پناہ گزینوں کی واپسی کا عمل پیر کے روز یونان کے جزیرے لیزبوس سے شروع ہوا۔ ترکی کے حکام کے مطابق 500 افراد کی واپسی متوقع ہے۔ ان افراد کو مغربی ترکی کے علاقے ڈی چیلے میں ٹھہرایا جائے گا۔

تاہم اس منصوبے کے بار آور ہونے کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

یونان میں پناہ گزینوں کی جانب سے پناہ حاصل کرنے کے حوالے سے مروجہ طریقہ کار کے بارے میں معلومات کی عدم دستیابی کی شکایات سامنے آئی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ انھیں واپس بھیجا جاسکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترکی واپس کیے جانے کے خلاف نہ صرف پناہ گزین ہیں بلکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی ہیں

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق لوگوں کو بحرِ ایجہ کے دوسرے کنارے بھیجنے کی ذمہ داری یورپی یونین کے ایک ادارے کے پاس ہے۔ اس ادارے کو افرادی قوت کی شدید کمی کا سامنا ہے اورمطلوبہ اہلکاروں کی تعداد کے مقابلے میں ان کے پاس عملے کا محض دسواں حصہ ہے۔

معاہدے کے تحت یونان پہنچنے والے ان تمام افراد کو ترکی واپس بھجوایا جاسکتا ہے جن کی جانب سے پناہ کی درخواست نہیں دی جائے گی یا جن کی درخواست کو رد کر دیا جائے گا۔

ترکی کے لیے مالی اور سیاسی مراعات بھی اس معاہدے کا حصہ ہیں۔

اس منصوبے کے حوالےسے انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے، ان کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کے لیے ترکی محفوظ ملک نہیں ہے۔

Image caption بہت سے لوگوں نے پناہ گزینوں کے حق میں مظاہرے کیے

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ترکی پر الزام لگایا ہے کہ وہ شامی باشندوں کو غیر قانونی طور پر واپس ان کے ملک بھیج رہا ہے، جبکہ ترکی کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

بچوں کے حقوق کی تنظیم سیو دی چلڈرن کی جانب سے اس معاہدے کے لیے ’غیر قانونی اور غیر انسانی‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ لوگوں نے ان سے کہا ہے کہ اگر انھیں ترکی واپس بھیجا گیا تو وہ خودکشتی کر لیں گے۔

رواں سال مارچ میں معاہدہ طے پانے کے بعد سے تقریباً 400 افراد روزانہ یونان کے جزیروں پر پہنچ رہے ہیں۔

شمالی یورپ کے ممالک کی جانب سے اپنی سرحدیں بند کرنے کے بعد ہزاروں افراد یونان میں پھنس گئے ہیں۔ جبکہ خیمہ بستیوں میں سہولیات کے فقدان کے باعث جھڑپوں کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

گذشتہ سال سے اب تک بذریعہ کشتی دس لاکھ پناہ گزین ترکی سے یورپ میں داخل ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لاکھوں لوگوں نے یورپ میں پناہ حاصل کرنے کے لیے خطرناک راستے اختیار کیے

ان میں سے کئی افراد جرمنی اورشمالی یورپ کے دیگر ممالک کا سفر کرنے کے خواہشمند ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ یہ معاہدہ پناہ کے متلاشی افراد کو متبادل اور مزید خطرناک راستے اختیار کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

دوسری جانب اس دوران آسٹریا میں اٹلی کی سرحد کے نزدیک پناہ گزینوں کی حمایت کرنے والے مظاہرین کا پولیس سے آمنا سامنا ہوا ہے۔

یہ واقعہ آسٹریا کے وزیر دفاع کے اس بیان کے بعد پیش آیا کہ داخلے کے اہم مقامات پر فوجیوں کو تعینات کیا جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یورپ کی بیرونی سرحدیں صحیح معنوں میں محفوظ نہیں ہیں۔

اسی بارے میں