جکارتہ ایئر پورٹ پر دو طیاروں کی ٹکر

تصویر کے کاپی رائٹ Ian Ardian
Image caption باتک ایئر کے طیارے میں 49 مسافر اور عملے کے ارکان سوار تھے

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے ہوائی اڈے پر دو طیاروں کے آپس میں ٹکرانے کے نتیجے میں ایک طیارے کے پر میں آگ لگ گئی۔

تفصیلات کے مطابق باتک ایئر کے ایک مسافر طیارے کا پر اڑان بھرنے کے دوران ٹرانس نوسا طیارے کی دم میں پھنس گیا جو اسی وقت رن وے پر اترا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ پیر کو ہونے والے اس واقعےمیں کوئی زخمی نہیں ہوا ہے اور تمام مسافروں کو بحفاظت طیارے سے اتار لیا گیا ہے۔

ہوائی سفر کی صنعت میں ترقی کے باوجود محفوظ سفر کے لیے کی جانے والی احتیاطی تدابیر میں انڈونیشیا کا ریکارڈ، خاص طور پر سستی ہوائی کمپنیوں کے معاملے میں خاصا خراب رہا ہے۔

یہ واقعہ جکارتہ کے ڈومیسٹک ایئر پورٹ پر پیش آیا جہاں زیادہ تر اندرون ملک پروازوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق باتک ایئر کے طیارے میں 49 مسافر اور عملے کے ارکان سوار تھے۔

باتک ایئر کی نمائندہ کمپنی لائن ایئر گروپ کے ترجمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جہاز کے کپتان نے ٹکر کے بعد ٹیک آف روک دیا تھا اس لیے مسافر اور عملہ محفوط رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ian Ardian
Image caption سنہ 2013 میں لائن ایئر کا ایک طیارہ بالی کے ایئرپورٹ پر رن وے سے آگے نکل کر سمندر میں جا گرا تھا

انڈونیشیا کی وزارت ٹرانسپورٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ اس تصادم کی وجہ سے دونوں طیاروں کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا ہے۔ انٹرنیٹ پر پوسٹ کی جانے والی ایک ویڈیو میں باتک ایئر کے طیارے کے پر سے شعلے اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

سنہ 2013 میں لائن ایئر کا ایک طیارہ بالی کے ایئرپورٹ پر رن وے سے آگے نکلتا ہوا سمندر میں جا گرا تھا۔ اس واقعے میں کم از 22 لوگ زخمی ہوئے تھے۔

اس ہی سال لائن ایئر کا ہی ایک اور طیارہ سلاویسی جزیرے کے ہوائی اڈے پر رن وے سے گھسٹتا ہوا ایک گائے سے ٹکرا گیا تھا۔

سنہ 2014 میں انڈونیشیا میں کام کرنے والی ایئر ایشیا کی ایک ذیلی کمپنی کا طیارہ سرابایا سے سنگاپور جاتے ہوئے سمندر میں گرگیا تھا جس کے نتیجے میں جہاز میں سوار 162 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں