نیوزی لینڈ کی سابق وزیر اعظم سیکریٹری جنرل شپ کی امیدوار

تصویر کے کاپی رائٹ

گذشتہ کئی ماہ سے جاری رہنے والی قیاس آرائیوں کے بعد نیوزی لینڈ کی سابق وزیر اعظم ہیلن کلارک نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کی اگلی اُمیدوار ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ سلامتی کونسل میں تبدیلیاں لانا چاہتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ وہ جرمنی ، جاپان اور برازیل کو مستقل اراکین میں شامل کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دو افریقی ممالک کو بھی مستقل رکن بنایا جانا چاہیے۔

اس وقت کلارک اقوام متحدہ کے ڈیویلپمنٹ پروگرام کی بانی ہیں ۔اُن کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس سیکرٹیری جنرل کا عہدے سنبھالنے کے لیے وسیع تجربہ موجود ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کی مدت رواں سال دسمبر میں ختم ہو رہی ہے۔ ہیلن کلارک نے کہا کہ آج کے دور میں اقوام متحدہ کو امن اور سکیورٹی کے مسائل حل کرنے کے لیے نئے اقدامات اور نئی سوچ کے ساتھ کام کرنا ہو گا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے چار خواتین اور چار مرد ایک دوسرے کے مدِمقابل ہیں۔ ابھی تک سیکریٹری جنرل کے عہدے پر مرد ہی فائز رہے ہیں۔

بی بی سی کے ’نیوز نائٹ‘ پروگرام میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’سلامتی کونسل 1945 کی دہائی کی سیاسی اور جغرافیائی عکاسی کرتا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ اس کا موجودہ صدی سے تعلق ہو جس دنیا میں ہم آج رہ رہے ہیں۔‘

دوسرے امیدواروں میں بلغاریہ سے تعلق رکھنے والی یونیسکو کی چیف ارینا بوکوا اور پناہ گزینوں کی تنظیم کے سابق ہائی کمشنر انتونیو گوتریس شامل ہیں جن کا تعلق پرتگال سے ہے۔

اسی بارے میں