برسلز کے حملہ آور نے’یورپی پارلیمان میں کام کیا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption برسلز کے ایئر پورٹ اور میٹرو سٹیشن پر حملوں میں 32 افراد ہلاک ہو گئے تھے

بیلجیئم میں حکام کے مطابق برسلز بم حملوں میں ملوث ایک حملہ آور نے یورپی پارلیمان میں بھی ملازمت کی تھی۔

حکام نے حملہ آور کی شناخت ظاہر نہیں کی تاہم بتایا کہ اس نے سال 2009 اور 2010 میں موسم گرما میں ایک ماہ تک ملازمت کی اور وہ صفائی کرنے والے عملے میں شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق اس حملہ آور کا نام نجم لشراوی ہے اور یہ ایئر پورٹ پر خودکش حملہ کرنے والوں میں سے ایک تھا۔

خیال رہے کہ خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے برسلز کے ایئر پورٹ اور میٹرو سٹیشن پر حملوں میں 32 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

نجم لشراوی برسلز سے پہلے نومبر میں پیرس میں ہونے والے حملوں میں مطلوب تھے اور اس کے بعد سے مفرور تھے اور ان کے بارے میں خیال جا رہا ہے کہ برسلز ایئر پورٹ پر حملوں میں ملوث دو خودکش بمباروں میں سے ایک تھے۔

یورپی یونین کی پارلیمان کے مطابق صفائی کا عملہ فراہم کرنے والی کمپنی کے مطابق جب اس شخص کو ملازمت پر رکھا گیا تو اس وقت اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں تھا۔

دوسری جانب بیلجیئم کے وزیراعظم شارل میشیل نے ملک کی دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کی حکمت علمی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیلجیئم’ناکام ریاست‘ نہیں ہے۔

وزیرِاعظم شارل میشیل نے کہا ہے کہ اتھارٹی میں شامل ہر ایک کو 22 مارچ سے پہلے اور بعد میں ناکامی کے الزامات کی ذمہ داری لینا ہو گی۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق شارل میشیل نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ بیلجیئم میں 30 حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں جس میں موبائل فون کے پری پیڈ کارڈز کی فروخت پر پابندی بھی شامل ہے۔

’آج کا اہم پیغام ہے کہ بیلجیئم اور برسلز معمول کی زندگی کی جانب لوٹ آیا ہے۔‘

جب اس قسم کے حملے ہوتے ہیں تو یہ ناکامی ہے اور اس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا لیکن میں اس رائے کو تسلیم نہیں کرتا کہ ہم ایک ناکام ریاست ہیں۔‘

دوسری جانب حملوں کے برسلز ایئر پورٹ اور میٹرو سروس بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔

اسی بارے میں