عراق میں اغوا کاروں نے قطری، پاکستانی شہری رہا کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption اغوا کیے جانے والے افراد وہاں تلور کا شکار کرنے گئے تھے

قطر کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ عراق میں تقریباً چار ماہ پہلے اغوا ہونے والے قطری شاہی خاندان کے ایک رکن اور ایک پاکستانی کو رہا کر دیا گیا ہے۔

اغوا کاروں کی جانب سے رہا کیے جانے والے دونوں ان 28 افراد میں شامل تھے جنھیں گذشتہ دسمبر میں مسلح افراد نے سعودی سرحد کے قریب صحرائی علاقے سے اغوا کر لیا تھا۔

اغوا کیے جانے والے افراد وہاں تلور کا شکار کرنے گئے تھے۔

قطر کی وزارتِ خارجہ کے ایک بیان کے مطابق باقی 26 افراد کی بازیابی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

قطری حکومت کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ اغوا ہونے والے افراد میں شاہی خاندان کے کتنے افراد شامل ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا دونوں افراد کی رہائی کے بدلے میں معاوضہ ادا کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عراق کے علاوہ خلیجی ممالک سے شکاری پاکستان، مراکش اور افغانستان کا سفر بھی کرتے ہیں

حکام کے مطابق دسمبر میں مسلح حملہ آوروں نے شکاریوں کے کیمپ پر حملہ کر کے انھیں اغوا کر لیا تھا۔

کیمپ سے نو افراد بھاگنے میں کامیاب ہو گئے تھے اور بعد میں کویت آ گئے تھے۔

یہ کیمپ عراقی صوبہ ناصریہ کے دارالحکومت سماوا سے 130 کلومیٹر دور لیہ کے علاقے میں قائم تھا اور یہاں شیعہ مسلمان اکثریت میں ہیں۔

اس علاقے میں موسم سرما کے دوران اکثر کئی خلیجی ممالک سے شکاری تلور کے شکار کے لیے آتے ہیں۔

عراق کے علاوہ خلیجی ممالک سے شکاری پاکستان، مراکش اور افغانستان کا سفر بھی کرتے ہیں۔

حکومتِ پاکستان اس کے شکار کے لیے خصوصی پرمٹ جاری کرتی ہے اور اس کے شکار کے لیے خلیجی ریاستوں کے شاہی خاندانوں کے ارکان کی بڑی تعداد پاکستان کا رخ کرتی رہی ہے۔

رواں برس جنوری میں ملک کی سپریم کورٹ نے تلور کے شکار پر مکمل پابندی عائد کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

عدالت نے یہ حکم وفاق اور صوبہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں کی جانب سے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواستوں پر دیا جس میں شکار پر پابندی کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔