ٹیڈ کروز کی کامیابی، ٹرمپ کو پریشانی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

رپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی اُمیدوار کی نامزدگی حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ٹیڈکروز نے وسِکونسِن پرائمری کے انتخابات میں فیصلہ کُن کامیابی میں حاصل کر کے مدمقابل اُمیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب سے صدارتی اُمیدواروں کی نامزدگی کی دوڑ میں شامل برنی سینڈرز نے بھی وسط مغربی ریاستوں میں ہلیری کلنٹن پر واضح برتری حاصل کرلی ہے۔

مسٹر ٹرمپ اِس دوڑ میں آگے ہیں، لیکن رپبلکن پارٹی کی جانب سے نامزدگی حاصل کرنے کے لیے اُنھیں جتنے مندوبین کی ضرورت ہے، کل تعداد اس سے کم پڑ سکتی ہے۔

ٹرمپ کے مخالفین نے ثالثی کنونشن سے اُمیدیں لگا رکھی ہیں، جہاں اُمیدواروں کے درمیان ووٹنگ کا آغاز اُس وقت ہوگا جب اُن کے مدمقابل باہر ہو جائیں گے۔

جمعرات کو مسٹر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نقصان کے باوجود وہ فتح حاصل کریں گے اور اُن کی نظریں مرکزی حریف پر ہیں۔

اپنے بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ٹیڈ کروز کٹھ پتلی سے بھی بدتر ہیں۔ وہ ٹروجن گھوڑے جیسے ہیں، جنھیں پارٹی کے کرتا دھرتا صدارتی نامزدگی کی کرسی چرانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘

پارٹی کے رہنماؤں کو اِس بات کا خدشہ ہے کہ ٹرمپ صدارتی انتخابات میں کمزور اُمیدوار ثابت ہ وسکتے ہیں اور اِس سے دیگر رپبلکن اُمیدواروں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

حالیہ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ جائیدار کی خرید و فروخت کرنے والے بڑے سرمایہ کار ٹرمپ لاطینی امریکیوں، خواتین اور نوجون افراد میں غیر معمولی حد تک غیر مقبول ہیں۔

اگر ڈیموکریٹ پارٹی کی بات کی جائے تو نیویارک اور پنسلوینیا کے انتخابات سے قبل وسِکونسِن میں حاصل ہونے والی جیت نے ورمونٹ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر سینڈر کی خوب مدد کی ہے۔

سینڈر نے ملواکی کے سوا ریاست کی ہر کاؤنٹی میں فتح حاصل کی ہے، لیکن مندوبین بھی متناسب نمائندگی کے طریقہ کار سے طے کیا جاتے ہیں، اس وجہ سے وہ اِس معاملے میں مِسز کلنٹن سے آگے نہیں نکل سکتے۔

وسکوسن کے تقریباً 86 مندوبین میں سے سینڈر کو کم سے کم 44 کی حمایت حاصل کرنے کی امید ہے، لیکن مِسز کلنٹن کے پاس کم سے کم 28 مندوبین ہوں گے۔

مِسز کلنٹن کو اب بھی کافی برتری حاصل ہے اور زیادہ تر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ حالیہ نقصانات کے باوجود ڈیموکریٹ امیدوار بن جائیں گی۔

منگل کو ہونے والی شکست ٹرمپ کے لیے بڑا دھچکہ تھی، تاہم اُن کے پاس اب بھی مہم میں واپس آنے کا وقت موجود ہے۔ نامزدگی کی مہم کا رخ اب بڑی شمال مشرقی ریاستوں میں ہوگا، جہاں ٹرمپ کو واضح برتری حاصل ہے۔

نیویارک سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخصیت نے متعدد بار اسقاط حمل پر اپنا موقف واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ اُنھوں نے اسقاطِ حمل کرانے والی خواتین کو سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن بعد میں اُنھوں نے اِس حوالے سے اپنا ذہن تبدیل کر لیا۔

اُن کی انتخابی مہم کے منتظم کوری لیوان ڈوسکی کو خاتون صحافی سے بدتمیزی کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

کروز ٹرمپ کی لڑائی پر امریکی ذرائع ابلاغ کا موقف

نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ واضح کامیابح سے کروز ’نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سخت گیر اور مذہبی قدامت پسند رپبلکنز کے علاوہ بھی لوگوں کو اپنی جانب مائل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،‘ لیکن معتدل رپبلکنز کو قابو کرنا اور ٹرمپ مخالف ووٹ کو یکجا کرنا ’مشکل کام‘ ہو گا۔

واشنگٹن پوسٹ لکھتا ہے کہ وسِکونسن پرائمری کی وجہ سے رپبلکن ’نامزدگی کی جنگ نئے اور نازک دور میں داخل ہوگئی ہے۔‘

یو ایس اے ٹو ڈے لکھتا ہے کہ اب کروز ’کئی رپبلکن ووٹروں کے لیے بہت طاقتور چیز کی نمائندگی کرتے ہیں: ٹرمپ کو نامزدگی کی دوڑ سے باہر کرنے کے لیے یہ اُن کی آخری اُمید ہیں۔‘

لاس اینجلس ٹائمز کا کہنا ہے کہ وسکونسن نے مسٹر ٹرمپ کی برتری پر ’ضرب‘ لگائی ہے، لیکن صدارتی اُمیدوار کی دوڑ میں سب سے آگے رہنے والے ٹرمپ نے ’متعدد تکنیکی غلطیاں کی ہیں‘ جس میں ریاست کے مقبول گورنر سکاٹ واکر اور مسٹر کروز کی اہلیہ ہائِڈی کی بے عزتی شامل ہے۔

تجزیہ کرنے والی ویب سائٹ واکس کا کہنا ہے کہ اگر مسٹر کروز وِسکونس کے تمام مندوبین کی حمایت حاصل کر بھی لیتے ہیں، تب بھی وہ ٹرمپ سے تقریباً 240 مندوبین پیچھے ہوں گے۔