شمالی کوریا کا ’بیلسٹک میزائل انجن کا تجربہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ KCNA
Image caption شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی كے سي این اے کے مطابق یہ نئے قسم کا انجن ہے جو امریکہ پر بھی ایٹمی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے لیے ڈیزائن کیے گئے ایک انجن کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی كے سي این اے کے مطابق یہ نئے قسم کا ایسا انجن ہے جو امریکہ پر بھی ایٹمی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق اس تجربے کے دوران شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان بھی موجود تھے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے رہنما کم جانگ نے کہا کہ اب ملک ’سرزمین امریکہ سمیت دنیا کے کسی بھی بری بدرو تک حملہ کرنے کی صلاحیت سے لیس ہوگیا ہے۔‘

ادھر امریکہ میں وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے اس کے رد عمل میں کہا ہے کہ شمالی کوریا کو ایسی حرکتوں سے باز رہنا چاہیے جس سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو اور اسے اس کے بجائے ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس سے وہ اپنی عالمی ذمہ داریاں پوری کر سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سرکاری میڈیا کے مطابق اس ٹیسٹ کے دوران شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان بھی موجود تھے

مارچ میں بھی شمالی کوریا نے کہا تھا کہ اس نے اس طرح کے چھوٹے جوہری ہتھیار تیار کیے ہیں جو بیلسٹک میزائل کے ذریعے داغے جا سکتے ہیں۔

تاہم ماہرین اس کے اس دعوے پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔

شمالی کوریا نے گذشتہ جنوری میں جوہری تجربہ کیا تھا جس کے بعد امریکہ اور عالمی برادری نے اس پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ شمالی کوریا کے ان کارروائیوں کی بین الاقوامی سطح پر سخت تنقید ہوئی تھی۔

یاد رہے کہ چند روز قبل بھی امریکہ نے شمالی کوریا پر مزید نئی پابندیاں عائد کی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماضی میں شمالی کوریا پر 2006، 2009 اور پھر 2013 میں نیوکلئیر تجربات کی وجہ سے یو این کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں سے شمالی کوریا کے ایٹمی ارادوں پر کوئی اثر نہیں پڑا

یکم اپریل کو امریکی صدر باراک اوباما نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور چین نے فیصلہ کیا ہے کہ شمالی کوریا کو مستقبل میں میزائل ٹیسٹ کرنے سے روکیں گے۔

پچھلے چند ہفتوں میں شمالی کوریا نے مغربی ممالک کو دھمکیاں دیتے ہوئے ہائیڈروجن بم اور پھر طویل فاصلے تک جانے والے میزائل کے تجربات کیے ہیں۔

ماضی میں شمالی کوریا پر 2006، 2009 اور پھر 2013 میں نیوکلئیر تجربات کی وجہ سے یو این کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں سے شمالی کوریا کے ایٹمی ارادوں پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔

پابندیوں پر عمل درآمد کی زیادہ تر ذمہ داری اب چین پر پڑ رہی ہے۔

اسی بارے میں