یمن میں طویل لڑائی کے بعد جنگ بندی کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جنگ کے نتیجے میں اب تک 6000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

یمن میں تقریباً ایک سال سے جاری لڑائی کے بعد پیر سے جنگ بندی کا آغاز ہوگیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے اسماعیل شیخ احمد نے جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ ملک کی ازسرِ نو تعمیر کا بہترین موقع ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ رواں ماہ کویت میں ہونے والے امن مذاکرات کے لیے بہتر انداز میں تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

سعودی اتحاد اور حوثیوں کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ

اس سے قبل یمن کی حکومتی فوج کی مدد کرنے والے سعودی اتحاد نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کا احترام کرے گا۔

ادھر یمن میں موجود حوثی باغی جنھیں ایران کی حمایت حاصل ہے اور جو یمنی حکومت کو ختم کرنا چاہتے ہیں، انھوں نے بھی اس معاہدے کی پاسداری کا اعلان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption خیال رہے کہ یمن میں گذشتہ برس شروع ہونے والی جنگ کے نتیجے میں 20 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں

اسماعیل شیخ احمد نے اپنے ایک بیان میں اس جنگ بندی کو ’اہم، فوری اور ضروری‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’یمن مزید جانوں کا نقصان برداشت نہیں کر سکتا۔‘

اسماعیل شیخ احمد نے مزید کہا کہ اس جنگ بندی کے معاہدے میں ملک کے تمام حصوں میں امدادی سامان اور کارکنوں کی رسائی میں خلل نہ ڈالنا بھی شامل ہے۔

خیال رہے کہ یمن میں گذشتہ برس شروع ہونے والی جنگ کے نتیجے میں اب تک 6000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 20 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

یمین میں جاری تنازعے کے خاتمے کے لیے کویت میں رواں ماہ کے اختتام پر مذاکرات ہوں گے۔

عرب اتحاد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ صدر منصور ہادی کے کہنے پر اتوار کی نصف شب سے شروع ہونے والی فائربندی کا احترام کرتا ہے تاہم اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ باغیوں کی جانب سے سیز فائر کے بعد کیے جانے والے حملے پر ردِعمل کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

Image caption اسماعیل شیخ احمد نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے میں امدادی سامان اور کارکنوں کو رسائی فراہم کرنا بھی شامل ہے

دوسری جانب حوثی باغیوں نے بھی ایسا ہی بیان دیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اتوار کو جنگ بندی کے معاہدے کے نافذ ہونے سے کچھ ہی گھنٹے پہلے ہونے والے حملوں میں مزید 20 افراد ہلاک ہوئے۔

اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کے تعاون سے ہونے والے مذاکرات میں جنگ بندی کے لیے کوئی بھی پیش رفت کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔

سنیچر کو صدر ہادی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ کویت مذاکرات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ تاہم انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ حوثی باغیوں کو چاہیے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قرارداد پر عمل کرتے ہوئے یمن کے زیرِ قبضہ علاقے کو چھوڑ دیں اور غیر مسلح ہو جائیں۔

یاد رہے کہ حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا اور مغربی علاقے کو اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔

یمن میں جنگ نے انسانی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں، جہاں ہر پانچ میں سے چار افراد کی زندگی کا انحصار امداد پر ہے۔ یمن عرب دنیا کے غریب ممالک میں سے ایک ہے۔

اسی بارے میں