مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد ’برطانیہ میں بھی پھیل سکتا ہے‘

Image caption مسجد سے ملنے ولی پرچیوں پر احمدی مخالف پیغام لکھا ہوا تھا

برطانیہ کی جنوبی لندن کی ایک مسجد سے ایسے لیف لیٹس ملے ہیں جن میں احمدیوں کو قتل کرنے کی بات کہی گئی ہے۔

جنوبی لندن کی سٹاک ویل گرین مسجد میں کچھ ایسے لیف لیٹس ملے ہیں جن پر لکھا تھا کہ اگر احمدی اسلام قبول نہیں کرتے تو انھیں مار دیا جائے۔

ان لیف لیٹس کو عالمی مجلسِ تحفظ ختِم نبوت کے سابق سربراہ نے لکھا تھا۔ عالمی مجلسِ تحفظ ختم نبوت اس مسجد کو ’بیرون ملک‘ میں اپنا دفتر قرار دیتا ہے۔

سٹاک ویل گرین مسجد کے ایک ٹرسٹی نے کہا کہ انھوں نے یہ لیف لیٹس پہلے کبھی نہیں دیکھے اور کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ لیف لیٹس یا تو جعلی ہوں یا کسی نے غلط نیت سے مسجد میں رکھے ہوں۔

پاکستان میں اقلیتوں کو فرقہ وارانہ کارروائیوں میں ٹارگٹ کیا جاتا ہے اور کئی ماہرین کو خدشہ ہے کہ اسلامی تنظیموں کے اثر کے باعث اس قسم کے واقعات برطانیہ میں بھی پھیل سکتے ہیں۔

ختم نوبت کا ماننا ہے کہ احمدی زندیق ہیں اور یہ ایسے لوگوں کے متعلق کہا جاتا ہے جنھوں نے اپنا دین چھوڑ دیا ہو۔

ان لیف لیٹس کے مطابق جو تین دن کے اندر اسلام کے مرکزی دھارے میں نہ آئے اس کو قتل کر دینا چاہیے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے آئین کے مطابق احمدی برادری اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتی۔

یہ لیف لیٹس مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے لکھے ہیں اور یہ انگریزی میں ہیں۔ یہ مسجد میں جوتے اتارنے کی جگہ کے قریب رکھے گئے تھے جہاں عام طور پر تحریر مواد رکھا جاتا ہے۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ چیریٹی کمیشن کے دستاویزات میں ختم نبوت نے سٹاک ویل مسجد کو اپنا دفتر قرار دیا ہے۔

ان دستاویزات کے مطابق چار ٹرسٹیز مسجد کے منتظم ہیں جبکہ مسجد کے دو مالکان ختم نبوت کے مختلف سینٹرز برطانیہ میں چلاتے ہیں۔

آزاد تنظیم

Image caption ختمِ نبوت کا ماننا ہے کہ احمدی مرتد ہیں

سٹاک ویل مسجد پر 2011 میں پاکستان میں دہشت گردی اور نفرت پھیلانے سے متعلق کارروائیوں کو بڑھاوا دینے میں مدد کا الزام لگایا گیا تھا۔

اس وقت مسجد کے ٹرسٹی طحہٰ قریشی نے اس بات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ نفرت پھیلانے والی ویب سائٹ پر مسجد کے نام کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’ہم اس بات سے شدید نالاں ہیں اور نفرت پھیلانے والی کسی بھی تنظیم کے ساتھ انکا کوئی تعلق نہیں ہے‘۔

اس مسجد میں ملنے والی ان تازہ پرچیوں اور ختمِ نبوت اور مسجد کے درمیان تعلق کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر قریشی نے کہا کہ اس کا صرف اتنا ہی تعلق ہے کہ جب ہمیں کسی موضوع پر کسی مشورے کی ضرورت پڑتی ہے ہم تبھی ان سے رابطہ کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے ایسے کوئی پرچے نہیں چھاپے اور ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، کسی نے بری نیت سے یہ پرچے یہاں رکھے ہوں گے۔

لندن میں سکول آف اورینٹل اینڈ ایفریکن سٹڈیز کے ڈاکٹر جیمز کیرن کا کہنا ہے کہ ختمِ نبوت کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے احمدیوں کی مخالفت۔

لیکن احمدی مخالف جذبات اس تنظیم کی تحریک سے کہیں زیادہ بڑے ہیں۔

برطانیہ میں رہنے والے لطف الرحمان، جو احمدی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں، انکا کہنا ہے کہ ختمِ نبوت جیسے گروپوں کے سبب اقلیتوں کے خلاف پاکستان میں جاری تشدد اب برطانیہ میں بھی پھیل سکتا ہے۔

اب برطانیہ میں بھی نفرت پھیلتی جا رہی ہے ہم نے یہاں اور مختلف علاقوں میں ایسے واقعات دیکھے ہیں کہ کچھ دکانوں میں اس طرح کے لیف لیٹس تقسیم کیے گئے ہیں اور کچھ ہوٹلوں نے تو کھلے عام اعلان کیا ہے کہ وہ احمدیوں کو سروس فراہم نہیں کریں گے۔

کچھ امام اپنے خطبوں میں احمدیوں کے خلاف اشتعال پھیلاتے ہیں۔

انکا کہنا ہے کہ وہ 2010 میں لاہور میں احمدیوں پر ہونے والے حملے کے دوران وہیں پھنس گئے تھے جس میں بندوق برداروں نے اندھا دھند فائرنگ اور دھماکے کر کے 93 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

Image caption اب برطانیہ میں بھی نفرت پھیلتی جا رہی ہے

انھوں نے بتایا میں اس شخص کو نہیں بھول سکتا جو میرے نزدیک ہی بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے سفید کپڑے خون میں لال ہو گئے تھے۔ایک اور شخص اپنی چھوٹی سی بچی کے ساتھ تھا جو اپنی بچی کو بچانے کے لیے اسے آغوش میں لیتے ہوئے گولی کا نشانہ بنا۔

انکا کہنا ہے کہ ’لاہور جیسے واقعات یہاں نہیں ہوئےلیکن اگر حالات ایسے ہی رہے تو وہ دن دور نہیں۔‘

گزشتہ ماہ گلاسگو میں ایک احمدی دکاندار اسد شاہ کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق یہ قتل مذہبی بنیاد پر کیا گیا تھا۔

بریڈ فورڈ کے تنویر احمد کا جنھیں اس قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، کہنا ہے کہ انہوں نے مسٹر شاہ کو اس لیے قتل کیا کیونکہ انھوں نے اسلام کی توہین کی تھی۔

تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ختمِ نبوت کا اس قتل سے کوئی تعلق ہے۔

اسی بارے میں