یورپی کمپنیوں کے ٹیکس شفاف کرنے کے اقدامات

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

یورپ میں کام کرنے والی بڑی بڑی کمپنیوں کو اپنے ٹیکس کے معاملات کے بارے میں زیادہ شفاف رویہ اپنانے کے بارے میں یورپی یونین اقدامات کا اعلان کرنے والی ہے۔

ان نئے قواعد کا اطلاق یا اثر ان کمپنیوں پر پڑے گا جن کی سیلز 75 کروڑ یورو سے زیادہ ہے۔

٭ دولت چھپانے کے طریقے، ایک عمارت میں 18 ہزار کمپنیاں

٭ ’کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ جرم ہوا ہے‘

٭ پاناما پیپرز کیا ہیں؟

ان کمپنیوں کو یہ بتانا پڑے گا کہ وہ یورپی یونین کے ملکوں میں کتنا ٹیکس دے رہی ہیں اور ٹیکس بچانے کے لیے مشہور جگہوں پر ان کی کاروباری سرگرمیاں کیا ہیں۔

پاناما لیکس کے بعد ٹیکس بچانے کے لیے مشہور ملکوں اور جگہوں کے بارے میں عوام میں پیدا ہونے والی تشویش کے بعد یورپی یونین نے یہ اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یورپی یونین کی مالی سروسز کے کمشنر لارڈ ہل کا کہنا ہے کہ ٹیکس میں شفافیت اگرچہ پرعزم اقدامات ہیں لیکن ان اقدامات پر بہت غور و خوض کیا گیا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’اگرچہ ہماری ملک سے ملک رپورٹنگ کی تجویز پاناما پیپرز کے بعد کی نہیں ہے لیکن ٹیکس میں شفافیت لانے اور ٹیکس بچانے کے درمیان بہت اہم تعلق ہے۔‘

یورپی یونین کی ترجمان کے مطابق ملک سے ملک رپورٹنگ کا اطلاق بینکوں، کان کنی اور جنگلات کی کمپنیوں پر پہلے ہی سے ہوتا ہے۔

نئی تجاویز کے مطابق ملک سے ملک رپورٹنگ کو دیگر کمپنیوں پر بھی لاگو کیا جائے گا جو یورپی یونین کی 90 فیصد آمدن کی ذمہ دار ہیں۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ کمپنیوں کو مجموعی پیداوار، ٹیکس سے قبل منافع، واجب الادا انکم ٹیکس، ادا کردہ ٹیکس اور کُل منافع جیسی معلومات فراہم کرنی ہوں گی۔

یہ تبدیلیاں اس وقت سامنے آئی ہیں جب جی 20 کے رہنماؤں نے او ای سی ڈی کے منصوبے کو اپنایا ہے جو کارپوریٹ ٹیکس کو کم ترین کرنے سے نمٹتی ہے۔

بی بی سی کے بزنس رپورٹر تھیو لیگیٹ کے مطابق یہ تجویز متنازع ہو جائے گی۔ کیشن کے پلان کے مطابق کمپنیوں پر یہ لازم ہو گا کہ وہ بتائیں کہ ان کا منافع کتنا ہوا اور یورپی ممالک کو کتنا ٹیکس دیا۔ لیکن ان پر یہ بھی لازم ہو گا کہ وہ کسی تیسرے ملک میں کیے گئے کاروبار کے بارے میں بھی معلومات فراہم کریں۔ اور یہ ممالک ہیں جہاں بین الاقوامی ٹیکس کے معیار لاگو نہیں ہوتے، یا دوسرے الفاظ میں ٹیکس بچانے کی خفیہ جگہیں۔

اسی بارے میں