پاناما میں موساک فونسیکا کے ہیڈ کوارٹر پر پولیس کا چھاپہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ چھاپے کی کارروائی پاناما شہر میں واقع موساک فونسیکا کے دفتر پر کی گئی ہے

پاناما میں پولیس نے موساک فونسیکا نامی اس کمپنی کے اہم دفاتر پر چھاپے مارے ہیں جس سے حال ہی میں بڑے پیمانے پر دستاویزات اور ڈیٹا لیک ہوا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ چھاپے کی کارروائی پاناما شہر میں واقع موساک فونسیکا کے دفتر پر کی گئی ہے جس کے دوران نہ تو کوئی حادثہ پیش آیا اور نہ ہی اس میں کوئي مداخلت ہوئی۔

* دولت چھپانے کے طریقے، ایک عمارت میں 18 ہزار کمپنیاں

* سمندر پار خفیہ کھاتے اور ایشیا

لیک ہونے والے پیپرز سے پتہ چلتا ہے کہ کیسے امیر لوگ ٹیکس اور جرمانے سے بچنے کے لیے بیرونی ممالک میں اپنی نئی کمپنیاں کھولتے ہیں۔

موساک فونسیکا کوئی غیر قانونی یا غلط کام کرنے کی تردید کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کمپنی ہیکنگ کا شکار ہوئی ہے اور اس سے حاصل شدہ معلومات کو غلط طریقے سے پیش کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پولیس نے منگل کے روز چھاپے کی جو کارروائی کی اس میں کرائم یونٹ کے ارکان بھی شامل تھے

پولیس نے منگل کے روز چھاپے کی جو کارروائی کی اس میں کرائم یونٹ کے ارکان بھی شامل تھے۔ دفتر کے باہر پولیس نے پہلے باڑ لگائی اور پھر سینیئر افسران نے دفتر کے اندر داخل ہوکر دستاویزات کی چھان بین کی۔

اس کارروائی کے بعد سرکاری وکیل کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ اس کا مقصد ’ان دستاویزات کو حاصل کرنا تھا جن کے متعلق میڈیا میں بہت سی معلومات شائع کی گئیں اور جس سے پتہ چلتا ہے کہ کمپنی غیر قانونی کاموں ميں ملوث ہوئی ہے۔‘

بیان میں کہا گيا ہے کہ کپمنی کے ذیلی دفاتر میں بھی چھاپے کی کارروائی کی جائے گی۔

ادھر کمپنی نے اس چھاپے کی کارروائی سے متعلق اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’ہمارے دفتر میں جو تفتیشی کارروائی کی جا رہی ہے اس میں ہماری کمپنی حکام کے ساتھ تعاون کرنا جاری رکھے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاناما کے صدر جوان کارلوس ویرلاز نے وعدہ کیا ہے کہ وہ آف شور مالی کمپنیوں میں زیادہ شفایت لانے کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔

ایک ہفتہ قبل جیسے ہی پاناما پیپرز کے لیک ہونے کی خبر پھیلی اسی وقت پاناما کی حکومت نے اس پورے معاملے کی تفتیش کرانے کا وعدہ کیا تھا۔

موسک فونسیکا نے تقریباً ایک کروڑ سے زائد دستاویزات لیک ہوئي ہیں۔

دستاویزات کے منظر عام پر آنے کے بعد متعدد ممالک کے طاقتور اور امیر افراد کی ممکنہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں