روسی طیاروں کی امریکی جہاز کے قریب ’جارحانہ‘ پروازیں

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

امریکی حکام کہنا ہے کہ دو روسی جنگی جہازوں نے امریکی میزائل شکن جہاز کے قریب 12 بار ’جارحانہ‘ پروازیں کیں، البتہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

حکام کے مطابق دی سکوئی ایس یو 24 نامی جنگی جہاز بین الاقوامی پانیوں میں امریکی میزائل شکن جہاز کے بہت قریب آ گئے تھے۔

حکام کے مطابق ان جنگی جہازوں پر کوئی ہتھیار نہیں تھا اس لیے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

ایک امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ پیر اور منگل کو ہونے والے یہ واقعات ’حالیہ زمانے کی سب سے زیادہ جارحانہ کارروائیوں میں سے ایک ہیں‘۔

امریکی میزائل شکن جہاز کے کمانڈر نے روسی جنگی جہازوں کی ان پروازوں کو ’جارحانہ کارروائی‘ قرار دیا۔

امریکی حکام نے ایک بیان میں روسی جنگی جہازوں کی پروازوں کو ’غیر محفوظ اور ممکنہ طور پر اشتعال انگیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اس سے کوئی بھی حادثہ ہو سکتا تھا۔‘

امریکی یورپیئن کمانڈ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق جب یہ واقعہ ہوا تو اس وقت امریکی کمانڈر فوجی ہیلی کاپٹر اتارنے کی مشقیں کر رہے تھے۔

بیان کے مطابق ایک موقع پر روسی جنگی جہاز امریکی میزائل شکن جہاز سے 30 فٹ تک قریب آ گئے تھے۔

روس کے جنگی جہازوں کا یہ اقدام سنہ 1970 کے اس معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جا سکتا ہے جس کا مطلب سمندر میں خطرناک حادثات کو روکنا ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ امریکہ روس کے اس اقدام پر احتجاج کرے گا یا نہیں۔

حکام کے مطابق اگلے دن کے اے 27 نامی روسی ہیلی کاپٹر نے میزائل شکن جہاز کے قریب نیچی پرواز کی جس کے بعد مزید روسی طیارے اس جہاز کے پاس سے گزرے۔

روسی جنگی طیاروں کے اس علاقے سے واپس جانے تک فلائیٹ آپریشنز کو معطل کر دیا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہمیں روسی کی غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ سرگرمیوں پر شدید تشویش ہے۔ ایسے واقعات سے دو ممالک کے درمیان غیر ضروری تناؤ میں اضافہ اور کوئی حادثہ بھی ہو سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں