’وہ ہمارا ننھا بچہ بھی چھین کر لےگئے‘

Image caption روتھ اور ماریس نے سوچا کہ شاید سوشل سروسز کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے اور وہ ان کے بچے واپس کرنے آئے ہیں

ناروے میں حکومتی اداروں کی جانب سے ایک جوان جوڑے کے پانچ بچوں کو تحویل میں لیے جانے کے واقعے پر ملک میں اور بیرون ملک احتجاج کیا جا رہا ہے۔

ناروے کے بڑے بڑے سرگرم سماجی کارکنوں کے علاوہ اس حکومتی پالیسی کے خلاف دنیا بھر میں برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ناروے کی حکومت بلاجواز اور والدین کو مہلت دیے بغیر بچوں کو ان سے الگ کر دیتی ہے۔ خاص طور پر اگر والدین تارکین وطن ہوں تو بچوں کی بہبود کے حکومتی ادارے زیادہ سختی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

اس سلسلے میں رُوتھ اور ان کے شوہر ماریس کی کہانی کا حوالہ دیا جا رہا ہے جو نارے کی ایک دور دراز وادی میں مویشیوں کے فارم پر رہتے ہیں۔

رُوتھ اور ماریس کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال نومبر میں ایک دن اچانک دو سیاہ گاڑیاں ان کے دروازے پر آ کر رکیں۔

اس وقت ان کے دو چھوٹے لڑکے (جن کی عمریں پانچ اور دو سال تھیں) اور تیسرا تین ماہ کا بچہ ان کے جدید اور روشن کمرے میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔

اس وقت رُوتھ حسب معمول سکول کی بس کا انتظار کر رہی تھیں جس میں ان کی دو (آٹھ اور دس سالہ) بیٹیاں سکول آتی جاتی تھیں۔

Image caption روتھ اور ماریس نارے کی ایک دور دراز وادی میں مویشیوں کے فارم پر رہتے ہیں

لیکن اس پیر کے دن سکول کی بس آئی ہی نہیں اور بس کی بجائے دو نامعلوم سیاہ کاریں ان کے دروازے پر آن رکیں۔ ایک کار گھر کے پچھواڑے کی جانب چلی گئی جبکہ دوسری کار سے بچوں کی بہبود کے محکمے کی مقامی شاخ کی ایک خاتون اہلکار برآمد ہوئیں اور ان کے دروازے پر دستک دی۔

سوشل سروسز کے محکمے کی اس اہلکار نے رُوتھ کا بتایا کہ تفتیش کے لیےانھیں مقامی تھانے آنا پڑے گا۔

اہلکار نے رُوتھ کو بتایا کہ دوسری کار ہنگامی طور پر ان کی دو بیٹیوں کو لے کر پہلے ہی تھانے جا چکی ہے۔

نہ صرف یہ بلکہ خاتون نے رُوتھ سے کہا کہ وہ اپنے دونوں چھوٹے لڑکے بھی خاتون کے حوالے کر دیں۔

اگلی ہی صبح دو نئی سیاہ کاریں ان کے دروازے پر کھڑی تھیں۔ رُوتھ اور ماریس نے سوچا کہ سوشل سروسز والوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے اور وہ دونوں کاریں ان کے بچوں کو گھر واپس چھوڑنے آئی ہیں۔

لیکن ان کا خیال غلط نکلا۔

کاروں سے چار پولیس والے برآمد ہوئے اور ان کے ننھے بچے کو بھی لے کر چلے گئے۔

رُوتھ اور ماریس کے ساتھ پیش آنے والے یکے بعد دیگرے ان واقعات کے بعد ناروے کے مختلف شہروں اور کئی دوسرے ممالک میں بھی احتجاج شروع ہو گیا۔

یہ احتجاج دور دور تک پھیل گیا اور اب تک دنیا کے چار برِاعظموں میں کئی ممالک میں رُوتھ اور ماریس کے حق میں مظاہرے ہوئے ہیں جن میں ہزاروں افراد شرکت کر چکے ہیں۔

Image caption ارد گرد بہت سے کھلونے پڑے ہوئے تھے جن کے ساتھ ایک عرصے سے کوئی بچہ نہیں کھیلا تھا

مظاہرین کا کہنا ہے کہ ناروے میں بچوں کی بہبود کا سرکاری ادارہ (بارنی ورنٹ) بچوں کے ’اغوا‘ کا مرتکب ہو رہا ہے۔

لیکن رُوتھ اور ماریس کی کہانی اتنی سادہ بھی نہیں جتنی کئی مظاہرین سمجھ رہے ہیں۔

رُوتھ اور ماریس پر الزام ہے کہ وہ بچوں کو جسمانی سزا دیتے ہیں، جو ناروے میں بالکل غیر قانونی ہے۔

جب میں ان دونوں سے ملنے گیا تو رُوتھ اور ماریس اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ارد گرد بہت سے کھلونے پڑے ہوئے تھے جن کے ساتھ ایک عرصے سے کوئی بچہ نہیں کھیلا تھا۔

پیشے کے لحاظ سے رُوتھ بچوں کی ماہر نرس ہیں اور ان کا خاندان کئی نسلوں سے اسی وادی میں رہائش پذیر ہے، جبکہ ماریس کمپیوٹر کے ماہر ہیں اور پیدائشی طور پر ان کا وطن رومانیہ ہے۔

جب ہم نے بات شروع کی تو دونوں مشکل سے اپنے آنسو ضبط کر پا رہے تھے۔

رُوتھ کہتی ہیں کہ وہ بچوں کی پٹائی کرتی ہیں، لیکن ساتھ ہی ان کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں کہ ہر غلطی پر میں انھیں مارتی ہوں، لیکن کبھی کبھار پٹائی کرتی ہوں۔‘

’جب ہمارے بچوں کا طبعی معائنہ کیا گیا تو ان لوگوں کو ان کے جمسوں پر تشدد کا کوئی نشان نہیں ملا اور بچے ’بالکل ٹھیک ٹھاک‘ تھے۔ لیکن اگر آپ اس کی تفصیل پڑھیں تو ناروے کا قانون بہت سخت ہے اور اس میں والدین کو ہلکی سی جسمانی سزا کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ قانون اتنا سخت ہے۔‘

Image caption روتھ اور ماریس کے حق میں جاری مہم میں سب سے زیادہ شدت رومانیہ میں دیکھنے میں آ رہی ہے

رُوتھ اور ماریس کے وکیل نے مجھے زیادہ سوالات کرنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ ان کے خلاف تفتیش ابھی تک جاری ہے۔

دوسری جانب میرے لیے سرکاری ادارے سے معلومات حاصل کرنا بھی ناممکن ہے کیونکہ بچوں کی شناخت کو خفیہ رکھنے کے اصول کے تحت سرکاری اہلکار رُوتھ اور ماریس کی بچوں کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہیں کر سکتے۔

دوسری جانب رُوتھ اور ماریس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ صرف یہ فکر کی بات نہیں کہ بچوں کو کیسے والدین سے الگ کیا گیا، بلکہ انھیں تحویل میں لیے جانے بعد بھی سرکاری محکمے کا رویہ بہت خراب تھا۔

ان کے پانچوں بچوں کو تین مختلف عارضی والدین کے سپرد کر دیا گیا۔ سرکاری اہلکاروں کی نگرانی میں ماریس اور رُوتھ کو تین مختلف گھروں میں جا کر اپنے بچوں سے باری باری ملنا پڑتا ہے جس میں ان کو آٹھ گھنٹے لگ جاتے ہیں۔

محکمے والوں نے شروع میں کہا تھا کہ بچوں کو تحویل میں لیے جانے کے فوراً بعد ان لوگوں کو ملنے کی اجازت دے دی جائے گی، لیکن ان کی ملاقات بہت عرصے بعد کرائی گئی اور اس ملاقات میں بھی محکمے کا اپنا ایجنڈا تھا۔

ماریس کے بقول ’جب ہم ملاقات کے لیے پہنچے تو اہلکاروں نے ہمیں بتایا کہ اس ملاقات کا مقصد ہمارے خلاف باقاعدہ مقدمہ قائم کرنا ہے تا کہ ہمارے بچوں کو ہمیشہ کے لیے اہم سے الگ کر دیا جائے۔‘

رُوتھ اور ماریس کے حق میں جاری مہم میں سب سے زیادہ شدت رومانیہ میں دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں لوگوں کا خیال ہے کہ ماریس کو خاص طور ناروے میں نشانہ بنانے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ناروے کے مقامی باشندے نہیں بلکہ وہ رومانیہ سےوہاں گئے ہیں اور روتھ اور ماریس کا تعلق مسیحیوں کے پینٹیکوسٹل فرقے سے ہے جو ناروے کی اکثریتی مسیحی آبادی سے مختلف فرقہ ہے۔

اسی بارے میں