’ڈرامہ سٹیزن خان اسلاموفوبک ہے‘

کیا بی بی سی کے پروگرام اور عملہ برطانیہ کی تنوع کی نمائندگی کرتے ہیں؟ برطانوی دارالعوام میں اس بارے میں بحث کے دوران بی بی سی کے مزاحیہ ڈرامے کو ’اسلاموفوبک‘ قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

لیبر پارٹی کی رکن روپا حق نے مزاحیہ ڈرامے ’سیٹیزن خان‘ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اِس میں مسلمانوں کے ایک ’بہت پسماندہ‘ خاندان کی عکاسی کی گئی ہے۔

جب سنہ 2012 میں اِس ڈرامے کا آغاز ہوا تو اُس وقت اس پر دقیانوسی مسلمانوں کی ترجمانی کا الزام لگایا گیا تھا اور اُس کے تخلیق کار عادل رائے نے ریڈیو ٹائمز کو بتایا کہ اُن کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔

بی بی سی کا کہنا ہے کہ انعام یافتہ ڈرامے کو بہت زیادہ مثبت فیڈبیک ملا ہے۔

لیکن برطانوی رُکن پارلیمان روپا حق کا کہنا ہے کہ ’مجھے لگتا ہے کہ جیسے مجھے علم ہی نہیں کہ یہ کون سا سال ہے۔ آپ سوچیں گے کہ یہ برمنگھم کے مسلمان خاندان کے روزانہ کی کہانی ہے، لیکن یہ کافی پسماندہ یا غیر ترقی یافتہ خاندان ہے۔‘ روپا کی بہن کونی برطانوی ٹی وی پروگرام بلیو پیٹر کی سابقہ میزبان ہیں۔

’لیبر پارٹی کے رکن چوکا اومنا نے بھی اسلاموفوبیا کا نکتہ اُٹھایا۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ داڑھی والا عجیب سا شخص ہے اور یہ لوگوں کے ہاتھ نہیں کاٹ رہے ہیں لیکن میں آنے والی قسطوں میں اِس کا تصور کر سکتا ہوں۔‘

مزاحیہ تخلیقات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جب سنہ 2012 میں سیٹیزن خان کا آغاز ہوا تو اِس حوالے سے بہت شکایات سامنے آئیں، اور اِس کے تخلیق کار مسٹر رائے نے بتایا تھا کہ لوگوں نے اُنھیں بہت برا بھلا کہا، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ دقیانوسی مسلمانوں کا مذاق اڑاتا ہے۔

لیکن اُن کے ڈرامے نے رائل ٹیلیویژن سوسائٹی اور ایشیائی میڈیا ایوارڈز میں کئی ایوارڈ حاصل کیے ہیں۔

بی بی سی کے ترجمان کا کہنا تھا: ’حقیقت یہ ہے کہ اپنی پانچویں سیریز کے ساتھ سیٹیزن خان کی واپس اِس کی مقبولیت کی نشانی ہے، یقیناً اِس شو نے ایشیائی میڈیا ایوارڈ میں بہترین ٹی وی کردار سمیت کئی ایوارڈ حاصل کیے ہیں۔‘

’ہمیں مسلم کمیونٹی کی جانب سے شو اور اُس کے تخلیق کار عادل (جو پاکستانی نژاد برطانوی ہیں) کے لیے مثبت تاثرات ملے ہیں۔ اور مزاحیہ ڈراموں کے کردار مجموعی طور پر پوری کمیونٹی کی نمائندگی نہیں کر رہے ہوتے ہیں۔‘

مکمل غائب

روپا حق نے یہ باتیں سابق وزیر ثقافت ڈیوڈ لیمے کی جانب سے شروع کی گئی بحث کے دوران کہیں۔

مسٹر ڈیوڈ نے بی بی سی پر ’پرانی ملازمتوں کے لیے پرانے سکولوں سے وہی پرانے چہرے‘ بھرتی کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اور اُن کا کہنا ہے کہ اُن سے سیاہ فام اور ایشائی عملے نے رابطہ کیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ ’وہ بول نہیں سکتے کیونکہ وہ اپنے اوپر مصیبتیں پیدا کرنے والے شخص کا لیبل نہیں لگانا چاہتے۔‘

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ براڈکاسٹروں میں چینی کمیونٹی ’مکمل طور پر غائب‘ ہے اور بی بی سی کے نئے چارٹر میں نسلی اقلیتی نمائندگی میں اضافے پر پیش رفت کے حوالے سے کمی کو دور کیا جانا چاہیے۔

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرچہ سنہ 1999 سے لے کر 2004 کے درمیان بی بی سی میں نسلی اقلیتوں کے لیے 29 منصوبے چلائے گئے، لیکن صورت حال میں بہتری نہیں آئی اور سنہ 2015 میں نسلی اقلیتی عملے کا تناسب 13.1 فیصد سے کم ہو کر 12.2 فیصد پر آ گیا ہے۔

ٹاٹنتھم سے لیبر پارٹی کے رکن پارلیمان نے بچوں کے ٹی وی بی بی سی تھری اور دستاویزی فلموں میں تنوع کی تعریف کی، لیکن اُنھوں نے سوال کیا کہ آیا اسی طرح کی جداگانہ نمائندگی انتظامیہ میں بھی ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’ہم سب نشریاتی ادارے میں جائیں اور سکیورٹی دیکھیں تو سیاہ فام عملہ جونیئر سطح پر ہے لیکن جب نیوز روم میں داخل ہوں اور ادارتی فیصلوں کے حوالے سے سوچیں اور اپنے آپ سے سوال کریں کہ کیا مجموعی طور پر واقعی یہ ہمارے ملک کے نمائندے ہیں؟‘

کنزرویٹیو رکن پارلیمان ہیلین گرانٹ نے تجویز دی کہ بی بی سی رضاکارانہ طور پر نسلی اقلیتوں کی بھرتیوں، مستقل عملے، ترقی اور تنخواہ کے حوالے سے اعداد و شمار جاری کر سکتی ہے۔

وسطی سنڈرلینڈ سے رکن پارلیمان جولی ایلیٹ کہتی ہیں کہ بی بی سی میں برطانیہ کے ہر خطے کی نمائندگی ہونی چاہیے۔

اسی بارے میں