’آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کے الزامات کی تردید‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption افغانستان میں سی آئی اے کیمپ پر حملے میں سات اہلکار ہلاک ہو گئے تھے

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی افغانستان میں سرحدی چوکی پر سنہ 2009 میں خود کش حملے میں آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کے الزامات کو حکومت پاکستان نے مسترد کرتے ہوئے انھیں بالکل بعید از قیاس قرار دیا ہے۔

امریکہ میں حال ہی میں عام کی جانے والی خفیہ سفارتی دستاویزات میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ سنہ 2009 میں افغانستان میں سی آئی اے کی چوکی پر خود کش حملہ کرنے کے لیے آئی ایس آئی نے افغان مسلح گروہ حقانی نیٹ ورک کو دو لاکھ امریکی ڈالر ادا کیے تھے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جمعہ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ سنہ 2009 میں افغانستان میں کیمپ چیپ مین پر حملے میں امریکی ہلاکتوں پر انھیں بھی بہت صدما ہوا تھا۔

وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی اور اس سلسلے میں ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی جس میں خود کش حملہ آور کو تحریک طالبان پاکستان کے کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

وزارتِ خارجہ نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے پاکستان نے کئی فوجی کارروائیوں کے ذریعے تحریک طالبان پاکستان اور دوسری شدت پسند مسلح تنظیوں کو بڑی حد تک کمزور اور غیر موثر کر دیا ہے۔

اس رد عمل میں اس بات کی بھی یاد دہانی کرائی گئی کہ پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور اس کے دسیوں ہزار افراد اور پانچ ہزار سے زیادہ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کو سینکڑوں ارب ڈالر کا نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان دہشت گردی اور انتہا پسندی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پر عزم ہے اور وہ شدت پسند گروہوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کر رہا ہے۔

امریکی خفیہ سفارتی مراسلوں میں انکشافات

امریکہ میں منظر عام پر آنے والے خفیہ سفارتی مراسلوں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اُسامہ بن لادن کو تحفظ فراہم کرنے اور القاعدہ اور طالبان سے روابط رکھنے والی تنظیم کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے افغانستان میں سی آئی اے کے مرکز پر خودکش حملہ کرنے کے لیے دو لاکھ امریکی ڈالر ادا کیے تھے۔

پاکستان کی طاقتور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے سنہ 2009 میں جنوبی افغانستان کے علاقے میں قائم ’چیپ مین‘ نامی کیمپ پر حملہ کرنے کے لیے رقم دی تھی۔ یہ 25 سالوں کے دوران سی آئی اے کے خلاف سب سے خطرناک حملہ تھا، جس میں سی آئی اے کے سات امریکی اہلکاروں سمیت دس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کے بارے میں ہمیشہ شک و شبہ کا اظہار کیا گیا ہے، تاہم منظر عام پر آنے والے امریکی محکمہ خارجہ کے نئے مراسلوں نے ایک بار پھر امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کی نوعیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

مراسلوں کے مطابق سنہ 2010 میں 11 جنوری سے چھ فروری تک حقانی نیٹ ورک کے رہنماؤں اور آئی ایس آئی کے سہولت کار کے درمیان تفصیلی ملاقاتیں کی گئیں، ’جس میں نامعلوم کارروائیوں کے لیے حقانی نیٹ ورک کے رہنماؤں کو رقم مہیا کی گئی۔‘

چھ فروری کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اِسی طرح کی ایک ملاقات میں حقانی نیٹ ورک کے رہنماؤں کو ’کیمپ پر حملے کے لیے دو لاکھ امریکی ڈالر فراہم کیے گئے تھے۔‘

اُسامہ بن لادن کی تلاش پر بننے والی آسکر انعام یافتہ ہالی ووڈ فلم ’زیرو ڈارک تھرٹی‘ میں دکھایا گیا ہے کہ نائن الیون حملے کے بعد القاعدہ کے رہنما کی تلاش کی مہم میں پیش آنے والا یہ سب سے تباہ کن واقعہ تھا۔ اُسامہ بن لادن پاکستان کی فوجی چھاؤنی والے علاقے میں روپوش تھے اور امریکی فوج نے سنہ 2011 میں ایک خفیہ آپریشن کے دوران اُنھیں ہلاک کر دیا تھا۔

سی آئی اے کے ’چیپ مین کیمپ‘ پر حملہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کام کرنے والے ایک ڈبل ایجنٹ اور اردنی نژاد ڈاکٹر خلیل البلاوی نے کیا تھا۔

اِس حملے میں البلاوی سمیت سی آئی اے کے سات ایجنٹ، اردن کی خفیہ ایجنسی کے ایک افسر اور افغان سکیورٹی چیف ہلاک ہوئے تھے۔

یہ مراسلے فریڈم آف انفارمیشن کی درخواست پر واشنگٹن میں قائم غیر سرکاری ادارے نیشنل سکیورٹی آرکائیو نے شائع کیے ہیں۔ مراسلوں میں کہا گیا ہے کہ یہ دستاویزات امریکی خفیہ اہلکاروں کی جانب سے اکٹھی کی گئی معلومات کی عکاس ہیں، لیکن حتمی نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسامہ بن لادن امریکی فوجی آپریشن میں ہلاک ہو گئے تھے

اسلام پسند قبائلی تنظیم پاکستان سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھی۔ جب 1980 کی دہائی میں اسامہ بن لادن نے پہلی بار سویت یونین کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تو حقانی نیٹ ورک نے اُنھیں اپنے ساتھ شامل کر لیا تھا۔

اُس وقت اِس تنظیم کو سی آئی اے کی حمایت حاصل تھی اور سرد جنگ کے دوران وہ امریکی پراکسی کی حیثیت سے رقم اور ہتھیار وصول کرتے تھے۔

افغانستان سے روسی انخلا کے بعد جب امریکی امداد ختم ہوئی تو آئی ایس آئی نے حقانی نیٹ ورک سے ملاپ کر لیا اور امریکہ سے ملنی والی فنڈنگ دوبارہ سے حقانی نیٹ ورک کو دینا شروع کر دی۔

نائن الیون حملے کے بعد اِس تنظیم نے افغانستان میں نیٹو افواج پر حملے کرنے اور مغربی اہداف کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ اِس کے القاعدہ سے قریبی تعلقات ہیں اور یہ تنظیم طالبان میں بھی کافی اثرورسوخ رکھتی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اس تنظیم کی حمایت سے انکار کیا ہے۔

مراسلوں میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ کیمپ کی بیرونی سکیورٹی کے سربراہ کو حملے میں مدد کرنے پر ایک لاکھ امریکی ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ بیرونی سکیورٹی کے ذمہ دار ایک افغان فوجی تھے، جنھیں صرف ارغوان کے نام سے جانا جاتا تھا۔

ارغوان نے خودکش بمبار کو پاک افغان سرحد کے قریب سے اپنے ہمراہ لیا اور تین سکیورٹی چوکیوں سے حملہ آور کو گزار کر بیس کے اندر تک لے گئے۔ جہاں بلاوی نے اپنے آپ کو دھماکے سے اُڑا لیا، حملے میں اُن سے ملنے کے لیے جائے وقوعہ پر موجود تین ایجنٹ بھی ہلاک ہوگئے تھے۔

مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حقانی نیٹ ورک نے ایک لاکھ امریکی ڈالر ارغوان کو دیے تھے، لیکن اِس دھماکے میں وہ بھی ہلاک ہوگئے۔

اسی بارے میں