ہم روسی طیاروں کو گرا سکتے تھے: جان کیری

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ امریکی فوج کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ ان روسی طیاروں کو گرا سکتی تھی جو اس کے بحری جہاز کے انتہائی قریب سے گزرے تھے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دو روسی جنگی جہازوں نے پیر کو امریکی میزائل شکن جہاز کے قریب پروازیں کیں۔

ادھر روس کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ دی سکوئی ایس یو 24 نامی جنگی جہاز حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے بعد واپس چلے گئے تھے۔

جان کیری نے اس واقعہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے ماسکو سے رابطہ کیا گیا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے میامی ہیرالڈ اور سی این این ایسپونال کو ایک مشترکہ انٹرویو دیتے ہوئے کہا ’ہم اس قسم کے رویے کی مذمت کرتے ہیں۔‘

جان کیری کا کہنا تھا ’روس کا یہ اقدام لاپرواہی، اشتعال انگیز اور خطرناک تھا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ روس کو اس خطرے کے بارے میں پیغام پہنچا دیا گیا ہے۔

اس سے قبل امریکی حکام نے کہا تھا کہ دو روسی جنگی جہازوں نے پیر اور منگل کو امریکی میزائل شکن جہاز کے قریب 12 بار ’جارحانہ‘ پروازیں کیں۔

حکام کے مطابق دی سکوئی ایس یو 24 نامی جنگی جہاز بین الاقوامی پانیوں میں امریکی میزائل شکن جہاز کے بہت قریب آ گئے تھے۔

حکام کے مطابق ان جنگی جہازوں پر کوئی ہتھیار نہیں تھا اس لیے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔

ادھر روس کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی جہاز روس کی بحریہ کے پاس سے گذر رہا تھا۔

بیان کے مطابق ’جہاز کو دیکھنے کے بعد روسی پائلٹس تمام حفاظتی اقدامات کو پورا کرتے ہوئے واپس چلے گئے تھے۔

وزارتِ دفاع کے بیان کے مطابق روسی جہازوں کی تمام پروازیں بین الاقوامی فضاؤں کے اصولوں کی سختی سے پاسداری کرتی ہیں۔

دوسری جانب امریکی میزائل شکن جہاز کے کمانڈر نے روسی جنگی جہازوں کی ان پروازوں کو ’جارحانہ کارروائی‘ قرار دیا۔

امریکی حکام نے ایک بیان میں روسی جنگی جہازوں کی پروازوں کو ’غیر محفوظ اور ممکنہ طور پر اشتعال انگیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس سے کوئی بھی حادثہ ہو سکتا تھا۔‘

امریکی یورپیئن کمانڈ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق جب یہ واقعہ ہوا تو اس وقت امریکی کمانڈر فوجی ہیلی کاپٹر اتارنے کی مشقیں کر رہے تھے۔

بیان کے مطابق ایک موقع پر روسی جنگی جہاز امریکی میزائل شکن جہاز سے 30 فٹ تک قریب آ گئے تھے۔

روس کے جنگی جہازوں کا یہ اقدام سنہ 1970 کے اس معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جا سکتا ہے جس کا مطلب سمندر میں خطرناک حادثات کو روکنا ہے۔

اسی بارے میں