’سعودی امداد نجیب رزاق کے لیے ذاتی عطیہ تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نجیب رزاق پر مستعفی ہونے کا دباؤ رہا ہے

ملائیشیا کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبير على نے کہا ہے کہ ملائیشیا کے وزیر اعظم نجیب رزاق کے ذاتی بینک اکاونٹ میں جمع رقم عطیے کے طور پر دی گئی تھی۔

گزشتہ برس امریکی جریدے وال سٹریٹ جنرل نے نجیب رزاق پر بدعنوانی کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ 68 کروڑ دس لاکھ ڈالر سرکاری ’ون ایم ڈی بی‘ فنڈ سے آئے تھے۔

نجیب رزاق سے متعدد بار مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے بعد ازاں اُن کے نام پر لگے بدعنوانی کے دھبوں کو صاف کر دیا گیا۔ اُنھوں نے کہا کہ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبير على کے بیان نے اِس بات کی تصدیق کر دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی وزیر خارجہ نے نجیب رزاق سے استنبول میں ملاقات کی

نجیب رزاق نے ون ایم ڈی بی فنڈ سنہ 2009 میں قائم کیا تھا جس کا مقصد ملائیشیا میں اقتصادی اور معاشی ترقی کے منصوبوں کے لیے سرمایہ مہیا کرنا تھا۔

گزشتہ جولائی میں ملائیشیا کے اٹارنی جنرل عبدالغنی پٹیل نے نجیب رزاق کے ذاتی بینک کھاتے میں موجود 68 کروڑ دس لاکھ ڈالر کی رقم کا تعلق اِن کمپنیوں اور اداروں سے جوڑا تھا جن کے منصوبے ون ایم ڈی بی کے تحت چل رہے تھے۔

جنرل عبدالغنی پٹیل کو اُن کے عہدے سے علیحدہ کر دیا گیا اور اُن کی جگہ جس شخص کو اٹارنی جنرل مقرر کیا گیا اُنھوں نے نجیب کو بدعنوانی کے تمام الزامات سے بری کر دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ نجیب رزاق کے بینک اکاونٹ میں موجود رقم سعودی شاہی خاندان نے اُنھیں ذاتی حیثیت میں دی تھی۔

ملائیشیا کی سرکاری نیوز ایجنسی برنامہ کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبير على نے ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والی اسلامی سربراہی اجلاس کے موقع پر اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے اِس بات کی تصدیق کی۔

اُنھوں نے کہا کہ ’ہم اِس معاملے سے آگاہ ہیں اور یہ واقعی ہی عطیہ تھا اور اِس کے عوض ہم کچھ توقع نہیں کر رہے تھے۔ ہم اِس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ ملائیشیا کے اٹارنی جنرل نے اِس معاملے کی مکمل تحقیقات کی ہیں اور اُنھیں اِس میں کوئی گڑ بڑ نظر نہیں آئی۔‘

اُنھوں نے کہا کہ جہاں تک اُن کا تعلق ہے یہ معاملہ اب ختم ہو گیا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبير على نے بیان اسلامی سربراہی اجلاس کے موقع پر نجیب رزاق سے اپنی ملاقات کے بعد دیا۔

گزشتہ ہفتے ملائیشیا کی پارلیمان میں ایک انکوئری کے بعد ون ایم ڈی بی فنڈ کے بورڈ کے تمام اراکین کو غیر ذمہ دارانہ رویے کا قصور وار ٹھہرایا تھا اور اس فنڈ کے سابق سربراہ کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ اس انکوائری میں نجیب رزاق کو ملوث نہیں کیا گیا۔

ون ایم ڈی بی فنڈ کی گزشتہ برس سوئس ماہرین کی طرف سے کی گئی تحقیقات کی گئی تھیں جن میں غیر ملکی سرکاری حکام پر بدعنوانی کے شبہات، عوامی مفادات کے انتظامات میں بے ایمانی اور پیسہ کی غیر قانونی منتقل یا لانڈرنگ کے امکانات کا اظہار کیا گیا تھا۔

ہانگ کانگ اور امریکہ کے ماہرین بھی ون ایم ڈی بی فنڈ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔