امریکی انتخابات: ہلیری کلنٹن اور سینڈرز میں بحث و تکرار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈیموکریٹک پارٹی کے ان دونوں امید واروں کے درمیان اس بات پر بحث تیز ہوگئی ہے کہ کون صدارت کے لائق ہے اور کون نہیں ہے

امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ہلیری کلنٹن اور برنی سینڈرز نے نیویارک پرائمری انتخابات سے قبل ایک بحث کے دوران ایک دوسرے پر سخت حملے کیے۔

حالیہ دنوں میں دیکھنے میں آیا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ان دونوں امید واروں کے درمیان اس بات پر بحث تیز ہوگئی ہے کہ صدارت کا حقدار کون ہے اور کون نہیں ہے۔

اس حوالے سے ماحول منفی رنگ اختیار کر گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سینڈرز نے ہلیری کلنٹن پر کئی بار اس بات کے لیے بھی نکتہ چینی کی کہ ان کے وال سٹریٹ سے مالی روابط رہے ہیں

عام طور پر اس طرح کے ذاتی حملے رپبلکن امیدواروں کے درمیان ہوتے رہے ہیں اور ڈیموکریٹ اس سے اجتناب کرتے رہے تھے۔ لیکن نیویارک میں ہونے والے پرائمری انتخابات میں جمعرات کو ہونے والی بحث میں ایک دوسرے پر نکتہ چینی سخت ہوگئی۔

بحث کے دوران برنی سینڈرز نے کہا: ’کیا ہلیری کلنٹن صدر بننے کا تجربہ اور ذہانت رکھتی ہیں؟ بالکل وہ یہ سب رکھتی ہیں۔ لیکن میں ان کے فیصلے پر سوال اٹھاتا ہوں۔‘

سینڈرز نے ہلیری کلنٹن پر کئی بار اس بات کے لیے بھی نکتہ چینی کی کہ ان کے وال سٹریٹ سے مالی روابط رہے ہیں اور خاص طور پر ان کی بعض تقریروں اور خطابات کے لیے انھیں بعض بینکوں نے رقم ادا کی تھی۔

سینڈرز نے ہلیری کلنٹن پر اس بات کے لیے بھی سخت تنقید کی کہ وہ عراق جنگ کی حامی تھیں۔

دوسری طرف ہلیری کلنٹن نے بھی برنی سینڈرز پر تیز تر حملے جاری رکھے اور کہا کہ وہ جن مجوزہ پالیسیوں کی بات کرتے ہیں اس سے متعلق وہ خود ابہام کا شکار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کلنٹن نے بھی برنی سینڈرز پر تیز تر حملے جاری رکھے اور کہا کہ وہ جن مجوزہ پالیسیوں کی بات کرتے ہیں اس بارے میں خود ابہام کا شکار ہیں

واضح رہے کہ حال ہی میں نیویارک ڈیلی نیوز کے ساتھ اپنے ایک انٹریو میں مسٹر سینڈرز اپنی ہی ب‏عض پالیسیوں کی وضاحت میں ناکام رہے تھے۔

اس کا حوالہ دیتے ہوئے کلنٹن نے کہا: ’مشکلات کی شناخت کرنا آسان ہے۔ لیکن اس کے لیے کچھ کام بھی کرنا الگ بات ہے۔‘

بحث کے دوران دونوں کے درمیان تلخی اور تناؤ بہت عیاں تھا۔ بعض مواقع پر سینڈرز نے کلنٹن کے جوابات کا مذاق اڑایا جبکہ کلنٹن نے اپنے مدمقابل سے بات چيت کی۔

برنی سینڈرز نے پچھلے آٹھ مقابلوں میں سے سات میں کامیابی حاصل کی ہے، جس سے ان کے حامیوں کے درمیان زبردست جوش و خروش پایا جاتاہے۔

لیکن چونکہ جنوبی ریاستوں میں کلنٹن نے بڑی کامیابیاں حاصل کی تھیں اس لیے صدارتی امیدوار کی نامزدگی کے لیے جو مندوبین درکار ہوتے ہیں اس میں کلنٹن کو اب بھی واضح برتری حاصل ہے۔

اسی بارے میں