’دہشتگردی اور نفرت کے خلاف مارچ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کئی افراد نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر یکجہتی کے پیغامات درج تھے۔

بلیجیئم کے دارالحکومت برسلز میں سینکڑوں افراد نے ایک جلوس میں شرکت کی ہے جسے ’دہشتگردی اور نفرت کے خلاف مارچ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اتوار کو منعقد ہونے والی یہ ریلی بیلجیئم کے ایک ایئرپورٹ اور میٹرو ٹرین پر دہشتگردی کے ان حملوں کے ایک ماہ بعد منعقد ہوئی ہے جن میں 32 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

برسلز کے شہریوں کی جانب سے نکالے جانے والے اس جلوس کی قیادت حملوں میں ہلاک و زخمی ہونے والے افراد کے لواحقین اور خاندان والے کر رہے تھے۔

ان کے علاوہ حملوں میں فوری طبی امداد فراہم کرنے والے اہلکاروں اور ایئر پورٹ کے عملے کے افراد نے بھی شرکت کی جنھوں نے اس دن کئی لوگوں کی جانیں بچائیں۔ جلوس میں شامل کئی افراد نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر یکجہتی کے پیغامات درج تھے۔

حملوں میں زخمی ہونے والے درجنوں لوگوں میں سے ابھی تک 50 سے زیادہ زخمی برسلز کے ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

ان حملوں کی ذمہ داری خود کو دولت اسلامیہ کہلوانے والی شدت پسند تنظیم نے قبول کی تھی۔

گذشتہ ہفتے 22 مارچ کو ہونے والے ان بم دھماکوں کی تحقیقات کے نتیجے میں دو افراد پر فردِ جرم عائد کر دی گئی۔

حکام کے مطابق یہ افراد ایک ایسے سیف ہاؤس سے منسلک ہیں جو حملہ آوروں نے استعمال کیا تھا۔

افسرانِ استغاثہ نے ’اسماعیل ایف‘ اور ’ابراہیم ایف‘ نامی دو بھائیوں کی شناخت کی۔

دیگر دو مشتبہ حملہ آوروں کو جمعے کے روز گرفتار کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں