ایکواڈور میں اتنے زلزلے کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اینڈیز اور ایکواڈور کے ارد گرد آتش فشانی کے کئی مراکز بن چکے ہیں

ایکواڈور میں زلزلہ کوئی نہیں بات نہیں ہے۔ حالیہ زلزلے سے پہلے ایکواڈور کے ارد گرد 250 کلومیٹر کے دائرے میں 1900 سے لیکر اب تک 7 یا اس سے زیادہ شدت کے سات زلزلے آ چکے ہیں۔ ان میں کچھ زلزلوں میں خاصا جانی نقصان ہوا، نہ صرف زلزلے کے جھٹکوں سے بلکہ اس کے بعد آنے والی سونامی کی اونچی لہروں سے بھی۔

ایکواڈور دراصل اس آتش فشاں پٹی پر واقع ہے جو بحرالکاہل کے گرد ایک کمان کی شکل میں موجود ہے۔

بحراکاہل کی چلمچی کے گرد چلتی ہوئی اس آرک یا کمان کو ’آگ کی انگوٹھی‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کمان پر ایکواڈور اس مقام پر واقع ہے جہاں زمین کی دو تہوں، نازکا اور ساؤتھ امیرکن پلیٹس، کی سرحدیں آپس میں ٹکراتی ہیں۔

بحرالکاہل اور اس کے ارد گرد کی سطح زمین اصل میں دو بہت بڑی بڑی تھالیوں یا پلیٹوں کا مجموعہ ہے اور یہ تھالیاں تقریباً 65 ملی میٹر سالانہ کی شرح سے ایک دوسرے سے رگڑ کھاتی رہتی ہیں۔ اس عمل کے دوران وہ تھالی جو بحرالکاہل کے اِس علاقے میں فرش کا کام دیتی ہے، یعنی نازکا پلیٹ، وہ نیچے کی جانب جا رہی ہے اور آہستہ آہستہ ساؤتھ امیرکن پلیٹ کے نیچے دھنس رہی ہے۔

اس عمل کے نتیجے میں اینڈیز اور ایکواڈور کے ارد گرد آتش فشانی کے کئی مراکز بن چکے ہیں، جن میں چمبورازو کا آتش فشاں مرکز بھی شامل ہے۔

کرۂ ارض کے اس حصے میں زلزلوں سے متوقع نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے جو ماڈل استعمال کیا جاتا ہے، اگر اسے نظر میں رکھا جائے اور یہ بھی دیکھا جائے کہ اس علاقے میں کس قسم کی عمارات پائی جاتی ہیں، تو خدشہ ہے کہ ایکواڈور میں آنے والے زلزلے سے سینکڑوں افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔

امریکی ادارے ’یو ایس جیولوجیکل سروے‘ نے بتایا ہے کہ ایکواڈور کے بعد بحرالکاہل کے جنوب مشرقی جزیرے ٹونگو میں بھی زلزلہ آیا ہے، تاہم ادارے کے مطابق جزیرے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔