گوانتاناموبے سے نو یمنی قیدی سعودی عرب منتقل

 گوانتاناموبے تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اب گوانتاناموبے کے حراستی مرکز میں صرف اسی قیدی رہ گئے ہیں

امریکہ نے کیوبا میں قائم حراستی مرکز گوانتاناموبے میں قید نو یمنی باشندوں کو سعودی عرب کے حوالے کر دیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق سعودی عرب نے اس بات پر قیدیوں کو رکھنے کی حامی بھری کیونکہ یمن میں انھیں رکھنے کے لیے حالات غیر مستحکم ہیں۔

ان قیدیوں کی منتقلی کے بعد اب گوانتاناموبے میں 80 قیدی رہ گئے ہیں جن میں سے اکثر کو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے بغیر کوئی فرد جرم عائد کیے وہاں رکھا ہوا ہے۔

صدر اوباما چاہتے ہیں کہ اپنی مدتِ صدارت پوری کرنے سے پہلے اس حراستی مرکز کو بند ہوتا دیکھیں۔

بی بی سی کی واشنگٹن میں نامہ نگار لورا بِکر کہتی ہیں کہ ان نو قیدیوں کی منتقلی پر واشنگٹن اور سعودی عرب میں بہت عرصے سے بات ہو رہی تھی اور ایسا اس وقت ہوا ہے جب صدر اوباما خلیجی عرب ممالک کے اجلاس جی سی سی میں شرکت کرنے سعودی عرب جا رہے ہیں۔

یہ اقدام واشنگٹن انتظامیہ کی کم رسک والے قیدیوں کو رہا کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ وائٹ ہاؤس چاہتا ہے کہ باقی قیدیوں کو امریکہ منتقل کیا جائے لیکن کانگریس اس کی مخالفت کرتی ہے۔

پینٹاگون کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکہ مملکتِ سعودی عرب کا اس کے انسانی رویے اور امریکہ کی گوانتانامو بے کے حراستی مرکز کو بند کرنے کے لیے کی جا رہی کوششوں میں حمایت کے لیے آمادگی پر اس کا شکر گزار ہے۔‘

اس مرتبہ رہا کیے جانے والے سب سے اہم قیدیوں میں طارق با اودھا بھی شامل ہیں جن کو 2007 سے لے کر اب تک روزانہ زبردستی کھانا کھلایا جاتا ہے۔ وہ 2007 میں ناروا سلوک کی وجہ سے بھوک ہڑتال پر چلے گئے تھے۔

اسی بارے میں