گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیلی کابینہ کا پہلا اجلاس

Image caption اسرائیل نے شام کے ساتھ 1967 کی جنگ کے دوران اس علاقے کا قبضہ حاصل کیا تھا

اسرائیلی کابینہ کا پہلا اجلاس اتوار کو گولان کی پہاڑیوں میں ملک کے وزیراعظم بینجمن نتن یاہو کی سربراہی میں منعقد ہوا۔

اس موقع پر اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ سٹریٹیجیک لحاظ سے اہمیت رکھنے والا یہ خطہ ہمیشہ ان کے ملک کے ہاتھوں میں رہے گا۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں اس خیال کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ شام میں قیام امن کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کے سلسلے میں شامی حکومت اسرائیل سے اس علاقے کی واپسی کا مطالبہ کرے گی۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے شام کے ساتھ 1967 کی جنگ کے دوران اس علاقے کا قبضہ حاصل کیا تھا، تاہم بین الاقوامی برادری نے اسے تسلیم نہیں کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’یہ وقت ہے کہ بین الاقوامی برادری یہ تسلیم کرے کہ گولان اسرائیلی حاکمیت میں رہے گا‘

روزنامہ دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق بینجمن نتن یاہو نےاس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ انھوں نے امریکی وزیرِ خارجہ سے کہا ہے کہ ان کا ملک شامی خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں اور امن معاہدے کی مخالفت نہیں کرتا تاہم شام اور اسرائیل کی سرحدی پٹی تبدیل نہیں کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل کبھی بھی گولان کی پہاڑیوں سے نہیں نکلے گا۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ بین الاقوامی برادری اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ ’جو بھی سرحد کے دوسری جانب ہوتا ہے، سرحد خود نہیں ہلے گی، 50 سال کے بعد یہ وقت ہے کہ بین الاقوامی برادری یہ تسلیم کرے کہ گولان اسرائیلی حاکمیت میں رہے گا۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گولان قدیم دور سے ہی اسرائیل کا حصہ رہا ہے اور یہ بہت سی اسرائیلی عبادت گاہوں کی دستاویزات سے بھی پتہ چلتا ہے۔

اسی بارے میں