فلسطینی نوجوان کا قتل، گروہ کے سرغنہ پر فردِ جرم عائد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 31 سالہ یوسف ہیم بین ڈیوڈ کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ قتل عالم جنون میں ہوا

اسرائیل میں ایک فلسطینی نوجوان کو سنہ 2014 میں زندہ جلانے والے اسرائیلی گروہ کے سرغنہ پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

یروشلم کی ایک عدالت نے 31 سالہ یوسف ہیم بین ڈیوڈ کو مجرم قرار دیتے ہوئے اگلے ماہ ان کو سزا دینے کا فیصلہ سنایا۔

16 سالہ محمد ابو خضیر کے قتل کے الزام میں پہلے ہی دو نوجوان جیل میں ہیں۔

* فلسطینی نوجوان کو’زندہ جلانے‘پر متعدد یہودی گرفتار

انھیں بظاہر مغربی پٹی میں تین اسرائیلیوں کے قتل کے بدلے میں مارا گیا تھا۔

حماس کی جانب سے تین اسرائیلی نوجوانوں کے اغوا اور قتل کے دو دن بعد ہی محمد خضیر کی لاش دو جولائی سنہ 2014 کو مغربی یروشلم کے جنگل سے ملی تھی۔

یہ ہلاکتیں اس وقت اسرائیل اور غزہ کے عسکریت پسندوں کے درمیان جنگ کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی کا حصہ تھیں۔

بین ڈیوڈ کے وکیل نے اس حوالے سے ایک ماہر نفسیات کا بیان پیش کیا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اس واقعے میں قتل کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حماس کی جانب سے تین اسرائیلی نوجوانوں کے اغوا اور قتل کے دو دن بعد ہی محمد خضیر کی لاش دو جولائی سنہ 2014 کو مغربی یروشلم کے جنگل سے ملی

اس قتل میں ان کے دو 16 اور 17 سالہ معاونین کو بھی عمر قید یعنی 21 برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

تینوں ملزمان نے ابو خضیر کو سڑک سے اغوا کیا اور پیٹنے سے بے ہوش کرنے کے بعد ان پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ بین ڈیوڈ وہ گاڑی چلا رہے تھے جس میں ابو خضیر کو اغوا کیا گیا بلکہ انھیں زندہ جلانے کے لیے آگ بھی انھوں نے لگائی۔

ابو خضیر کے اغوا اور قتل کے دوران بین ڈیوڈ قتل کیے جانے والے اسرائیلی لڑکوں کے نام دہراتے رہے۔

اسرائیلی لڑکوں کے قتل کے الزام میں دو مشتبہ فلسطینیوں کو اسرائیلی فورسز نے ستمبر 2014 میں ایک جھڑپ کے دوران مار دیا تھا۔

جبکہ ایک تیسری شخص حصام قواصمے کو تین مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اسی بارے میں