تیل کی قیمتوں میں کمی، سعودی عرب قرضہ لینے کے قریب

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سعودی عرب کی آمدن کا سب سے زیادہ دارومدار تیل سے حاصل ہونے والی کمائی ہے

اطلاعات کے مطابق سعودی عرب تیل سے حاصل ہونے والی آمدن میں کمی کے باعث بین الاقوامی بینکوں کے ساتھ دس ارب ڈالر قرضے کا معاہدہ کرنے کے قریب ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تیل برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک سعودی عرب آٹھ ارب تک کا قرضہ لینا چاہ رہا تھا لیکن بڑھتی طلب کی وجہ سے وزیر خزانہ کو یہ رقم بڑھانا پڑی۔

سنہ 1990 میں کویت پر عراق کے حملے کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ سعودی عرب نے بین الاقوامی مارکیٹ کا رخ کیا ہے۔

سعودی عرب کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ تیل سے حاصل ہونے والی کمائی ہے۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ قرضے کا معاہدہ رواں ماہ کے آخر تک طے پا جائے گا۔ جس سے سعودی عرب کا مقامی بینکوں پر انحصار کم ہو جائے گا اور اسے بین الاقوامی قرضوں کے لیے تخمینہ لگانے میں مدد ملے گی۔

اس قرضے سے سعودی عرب کے لیے انٹرنیشنل بانڈ جاری کرنے کا راستہ بھی کھل جائے گا۔

سعودی عرب کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں ہی میں تیل برآمد کرنے والے بڑے ممالک کے درمیان تیل کی پیداوار کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کے حوالے سے ہونے والا اجلاس بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گیا تھا۔

اجلاس میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ سعودی عرب اپنی تیل کی پیداوار پر اس وقت تک کوئی حد مقرر نہیں کرنا چاہتا جب تک ایران بھی ایسا ہی کرنے پر تیار نہ ہو جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تیل کی ریکارڈ کم قیمت کی وجہ سے نئی میٹرو لائن جیسے انفراسٹرکچر منصوبے متاثر ہونے کا امکان ہے

تاہم ایران بین الاقوامی پابندیاں ہٹائے جانے کے بعد زیادہ سے زیادہ تیل فروخت کرنا چاہتا ہے اور اس نے اس اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی۔

گذشتہ سال خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد سعودی عرب کا بجٹ خسارہ 98 ارب ڈالر تک بڑھ گیا تھا۔

اس کمی کو پورا کرنے کے لیے سعودی عرب نے سرکاری اخراجات میں کٹوتی اور ٹیکسوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔

سعودی عرب تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے بین الاقوامی مارکیٹ کی جانب رخ کرنے والا واحد خلیجی ملک نہیں ہے۔ رواں سال کے آغاز میں قطر نے ساڑھے پانچ ارب ڈالر جبکہ اومان نے ایک ارب ڈالر کا قرضہ حاصل کیا تھا۔

اس حوالے سے سعودی عرب کے مرکزی بینک نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

اسی بارے میں