دونوں جانب سے اعتبار میں کمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شاہ سلمان خطے میں امریکہ کے اہم اتحادی ہیں

اس ہفتے صدر اوباما سعودی عرب کے دورے پر ہیں، جو بحیثیت صدر ان کا عرب دنیا میں امریکہ کے سب سے اہم اتحادی ملک کا الوداعی دورہ ہو گا۔

اس دورے میں صدر اوباما شاہ سلمان سے ملاقات کرنے کے علاوہ خلیجی ممالک کی ایک سربراہ کانفرنس میں شرکت کریں گے جس کا مقصد ان شکوک کو رفع کرنا ہے کہ امریکہ آہستہ آہستہ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے اپنے وعدوں سے پھِر رہا ہے۔ کانفرنس میں صدر اوماما خلیجی حکمرانوں کو یقین دھانی کرائیں گے کہ امریکہ انہیں بھُولا نہیں ہے اور ان کی پریشانیوں کو سمجھتا ہے۔

صدر اوباما کا شاندار روایتی استقبال اور دورے کے دوران ان کے سرکاری بیانات اپنی جگہ، لیکن پس پردہ علامات بڑی واضح ہیں کہ امریکہ اور سعودی عرب کی درمیان گذشتہ 71 سال سے جاری سٹریٹجیک یا کلیدی شراکت داری دباؤ کا شکار ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دونوں ممالک کے تعلقات واقعی تنزلی کی جانب بڑھ رہے ہیں یا باہمی بددلی کا یہ دور عارضی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شہزادہ ترکی الفیصل ’ایران کی جانب امریکہ کے جھکاؤ‘ کے الفاظ استعمال کر چکے ہیں۔

لوگوں کے سامنے سعودی حکام جتنے بھی زیادہ نرم الفاظ استعمال کریں، لیکن اصل میں شاہ سلمان کے ان کے قریبی ساتھیوں کی نظر میں صدر اوباما کی شکل میں جو مہمان ان کے ہاں آیا ہوا ہے وہ اس مایوسی کا پیکر ہے جو سعودی عرب کو موجودہ امریکہ انتظامیہ سے ہے۔

امریکہ سے سعودی عرب کی بیزاری اور شکایتوں کی فہرست میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ فہرست خاصی طویل ہو چکی ہے۔ اس لیے لگتا نہیں کہ صدر اوباما اپنے اس مختصر مگر نہایت اہم دورے میں تمام شکایتیں دور کر سکیں گے۔

تبدیلی کی علامت، شاہ سلمان

دوسری جانب صدر اوباما اور ان کی ٹیم بھی کئی معاملات پر سعودی عرب سے بیزار ہے جس کا کچھ اظہار وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے حالیہ بیانات میں نظر آتا ہے۔

قصہ مختصر یہ ہے کہ دونوں کے تعلقات منقطع نہیں ہوئے لیکن کم از کم یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ سنہ 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں کے درمیان کشیدگی اتنی قدر زیادہ ہو گئی ہے۔

ان دونوں اتحادیوں کے بڑے بڑے جھگڑے ہیں کیا؟

گیارہ ستمبر کے حملے

آج کل امریکی کانگریس ایک بِل پر غور کر رہی ہے جو سعودی عرب کو قانونی طور پر گیارہ ستمبر 2001 کے دہشتگردی کے حملوں کا ذمہ دار قرار دے سکتا ہے جس سے سعودی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

گیارہ ستمبر کے حملوں میں ملوث 21 دہشتگردوں میں سے 15 افراد سعودی باشندے تھے، لیکن ان حملوں کی تحقیقات کرنے والے ’9/11 کمیشن‘ نے سرکاری سطح پر سعودی عرب کو اس الزام سے بری قرار دے دیا تھا۔ وہائٹ ہاؤس نے دھمکی دی ہے کہ وہ کانگریس میں اس بِل کو ویٹو کر دےگا۔

اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے بھی خبردار کر دیا ہے کہ اگر یہ بِل منظور ہو جاتا ہے تو امریکہ میں موجود اپنے اثاثوں کو فرخت کر دے گا۔ عالمی معاشی ماہرین سمجھتے ہیں کہ ان اثاثوں کی مالیت 750 ارب اور ہزار ارب ڈالر کے درمیان ہے جس کا ایک بڑا حصہ سکیوریٹیز کی شکل میں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب کا خیال ہے کہ اگر اوباما وقت پر اقدامات کرتے تو شامی اس اذیت سے نہ گزرتے

اگر یہ بِل آگے نہیں بھی جاتا تب بھی یہ خیال اوباما انتظامیہ کو بے چین کرنے کو کافی ہے کہ کئی امریکیوں کی نظر میں اس سر زمین پر ہونے والے دہشتگردی کے سب سے بڑے واقعات میں سعودی عرب کا کوئی نہ کوئی کردار ضرور تھا۔

ایران

صدر اوباما چاہتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں بظاہر ایک دوسرے کے بڑے مخالف، سعودی عرب اور ایران، اپنے باہمی تفرقات ختم کر دیں اور اس خطے میں ’حصہ داری‘ کی بنیاد پر کام کریں۔

لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ صدر اوباما کی یہ خواہش جلد پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔

ایران اور سعودی عرب اپنے اپنے حواریوں کے ذریعے ایک دوسرے خلاف صف آرا ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے سُنّی اتحادی اور ایران کے حمایت یافتہ شیعہ عسکری گروہ ہر دوسرے ملک میں آپس میں دست وگریباں ہیں۔

سعودی سمجھتے ہیں کہ انھیں ہر طرف سے گھیرا جا رہا ہے۔ سنہ 2003 میں عراق پر امریکہ کی اندھا دھند چڑھائی کے بعد سعودی پریشان ہیں کہ اب مشرق وسطیٰ کے تین دارالحکومت ( بغداد، بیروت اور دمشق) ایرانیوں کے ہاتھ میں ہیں۔

اس کے علاوہ سعودی ایران پر یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ وہ نہ صرف مشرقی سعودی عرب اور بحرین میں پُر تشدد شیعہ شورشوں کی پشت پناہی کر رہا ہے بلکہ یمن میں حوثیوں کی تحریک کی بھی مدد کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چھ ہزار سے زیادہ یمنی مارے جا چکے ہیں جو تمام فضائی حملوں میں ہلاک نہیں ہوئے۔

شیعہ ملیشیا کی کاروائیوں کے علاوہ سعودی عرب ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان حالیہ معاہدے کو بھی نہایت شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔

سعودیوں کو فکر ہے کہ اقتصادی پابندیاں اٹھنے کے بعد ایران کو جو پیسہ مل رہا ہے اس کا کچھ حصہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب کو دیا جائے گا جسے وہ خطے کے مختلف ممالک میں جاری اپنی عسکری کارروائیوں پر خرچ کریں گے۔

ان پریشانیوں کے علاوہ سعودی عرب کو یہ فکر بھی لگی ہوئی ہے کہ واشگنٹن جس مستقبل کی بنیادیں بچھا رہا ہے اس میں خلیج کے علاقے میں امریکہ کا سٹریٹیجک ساتھی سعودی عرب نہیں بلکہ ایران بن جائے گا۔

سعودی عرب کی اس فکر کا اظہار امریکہ میں سعودی عرب کے با اثر سفیر شہزادہ ترکی الفیصل ’ایران کی جانب امریکہ کے جھکاؤ‘ کے الفاظ استعمال کر چکے ہیں۔

توقع یہی ہے کہ بدھ اور جمعرات کو سعودی حکام کے ساتھ صدر اوباما کی بات چیت کا سب سے بڑا موضوع ایران کی جانب امریکہ کا مبینہ جھکاؤ ہی ہوگا۔

شام

شاہ سلمان نے صدر اوباما کو کبھی اس بات پر معاف نہیں کیا کہ جب سنہ 2013 میں صدر بشارالاسد کی حکومت پر الزام لگایا جا رہا تھا کہ اس نے اپنے ہی شہریوں کو زیریلی گیس سے ہلاک کیا ہے تو صدر اوباما نے ان پر فضائی حملوں کی حمایت نہیں کی تھی۔

سعودی سمجھتے ہیں کہ صدر اوباما نے اس وقت جس رویے کا مظاہرہ کیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں ہے اور اگر اس وقت صدر اوباما ہمت دکھاتے تو بعد کے عرصے میں جس اذیت کا سامنا عام شامیوں کو کرنا پڑ رہا ہے وہ نہ ہوتا۔

سعودی عرب کو یقین ہے کہ امریکہ شام کے تنازعے کو حل کرنا ہی نہیں چاہتا۔ اسی لیے شام کے معاملے میں سعودی عرب امریکہ کی بجائے ترکی کی سُنّی قیادت اور میدان جنگ میں برسر پیکار اپنے سُنّی عسکری جنگجوؤں کے ساتھ اتحاد بنا رہا ہے۔

Image caption شیعہ رہنما شیخ نمر المنر کے سزائے موت پر سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا

سرکاری سطح پر سعودی عرب اب بھی امریکی قیادت میں قائم اس اتحاد کا حصہ ہے جو دولت اسلامیہ کے خلاف بنایا گیا تھا اور حال ہی میں سعودی عرب کے جنگی طیاروں کو اسی مقصد کے لیے جنوبی ترکی میں تعینات بھی کیاگیا ہے۔

اس سے پہلے فروری میں جرمنی کے شہر میونخ میں سکیورٹی امور پر ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں سعودی وزیر خارجہ نے کھُلے الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ جب تک بشارالاسد حکومت میں ہیں، اس وقت تک دولت اسلامیہ کو شکست نہیں دی جا سکتی۔

لیکن دوسری جانب امریکہ نے بشارالاسد کو اقتدار سےالگ کرنے کی کوششیں نرم کر دی ہیں اور حال ہی میں سعودی عرب نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سنی ممالک کا اپنا الگ ’اسلامی اتحاد‘ بنا کر خود ہی دہشتگردی سے نمٹنے کا فیصلہ کر لیا۔

یمن

یمن میں حوثیوں باغیوں کے خلاف سعودی اتحاد کی جانب سے فضائی کارروائیوں کو شروع ہوئے ایک سال سے زیادہ ہو چکا ہے جس میں دونوں فریقوں کو بھاری مالی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

اس دوران چھ ہزار سے زیادہ یمنی مارے جا چکے ہیں جو تمام فضائی حملوں میں ہلاک نہیں ہوئے۔ تاہم سعودی بجٹ کو اس جنگ کی وجہ سے پانچ ارب 80 کروڑ ڈالر کا خسارہ ہو چکا ہے۔

اگرچہ امریکہ کو بے چینی ہے کہ یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی، لیکن اس کے باوجود امریکہ سعودی عرب کو یمن کے حوالے سے خفیہ معلومات، جنگی طیاروں کو ایندھن بھرنے کی سہولت اور دیگر جنگی سامان مہیا کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گرنے کے باوجود سعودی عرب کے اپنی پیدوار کم نہیں کی ہے

جب تک یمن میں جنگ جاری رہتی ہے اس وقت تک سعودی عرب اور امریکہ مل کر جنوبی یمن میں القاعدہ کے ٹھکانوں کو ڈرونز کی مدد سے نشانہ بناتے رہیں گے۔

تیل

مقامی سطح پر تیل اور شیل سے توانائی میں اضافے کے بعد اب وہ دن چلےگئے جب امریکہ اپنی ایندھن کی ضروریات کے لیے مکمل طور پر سعودی عرب پر انحصار کرتا تھا۔

اگرچہ اس کے بعد سعودی عرب کے پاس امریکہ کے ساتھ لین دین کی وہ طاقت نہیں رہی، سعودی عرب نے اپنی تیل کی پیدوار میں کمی نہیں کی ہے تا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اتنی کم رہیں کہ امریکہ میں تیل نکالنے والوں کو اپنے کاروبار میں زیادہ مالی مفاد نظر نہ آئے۔

عالمی منڈی میں تیل کی وافر مقدار سے ایران کو بھی مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ اگرچہ تیل نکالنے کی لاگت کم ہونے کی وجہ سے ابھی تک سعودی عرب اس قابل ہے کہ وہ زیادہ مقدار میں تیل نکالتا رہے، لیکن اپنے بجٹ اور دیگر اخراجات کے لیے اسے بھی جلد ہی اپنے تیل کی قیمت میں اضافہ کرنا پڑ جائےگا۔

انسانی حقوق

انسانی حقوق کے خاردار مسئلے پر لگتا نہیں کہ امریکی مہمان اور سعودی میزبان ایک دوسرے سے آنکھ ملا پائیں گے، لیکن توقع کی جا رہی ہے کہ صدر اوباما سعودیوں کے ساتھ اس بارے میں بار ضرور کریں گے۔

گذشتہ سال کے دوران امریکہ سعودی عرب میں کئی مجرموں کی اجمتاعی سزائے موت پر اعتراض کر چکا ہے، جس میں شعلہ بیان شیعہ رہنما شیخ نمر النمر کی سزائے موت بھی شامل ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ’رِپریو‘ بھی صدر اوباما پر زور دے چکی ہے وہ ان تین قیدیوں کے معاملے پر سعودی حکام سے بار ضرور کریں جو گرفتاری کے وقت کم سن تھے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ صدر اوباما اپنے الوداعی دورے پر سعودی عرب ایک ایسے وقت پہنچے ہیں جب وہاں ریاستی دباؤ میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔

مندرجہ بالا مسئلوں میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو صدر اوباما کے مختصر دورے کے دوران ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے اور دونوں فریق ان معاملات پر رضامند بھی ہو جائیں۔

اسی طرح واشنگٹن اور ریاض ایک دوسرے کے اتحادی بھی رہیں گے اور دونوں کے درمیان اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے بھی چلتے رہیں گے لیکن اب وہ پہلی سی بات نہیں رہی کیونکہ دونوں جانب سے اعتبار میں کمی ضرور آ چکی ہے۔

اسی بارے میں