برطانیہ: غیرملکی مالکانِ جائیداد کے لیے خفیہ رہنا مشکل

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY

برطانیہ میں ایک منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت جائیداد کے اصل مالکان کے لیے اپنے نام مخفی رکھنا مشکل ہو جائے گا اور ٹیکس چھپانے اور کالے دھن کو سفید کرنے والے افراد کو اپنے نام ظاہر کرنے پر مجبور کیا جا سکے گا۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومتی وزرا اس سلسلے میں مختلف تجاویز پر غور کر رہے ہیں۔

ان تجاویز کی بنیاد پر قانون سازی سے ان غیر ملکی کمپنیوں پر دباؤ بڑھ جائے گا جو جائیداد کے اصل غیر ملکی مالکان کے نام ظاہر کیے بغیر اربوں پاؤنڈ کی جائیداد کی مالک ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومتی وزرا اس سلسلے میں جن تجاویز پر غور کر رہے ہیں ان کے تحت ان غیر ملکی کمپنیوں کو بھی اپنے اصل سرمایہ داروں کے نام بتانے پر مجبور کیا جا سکے گا جو سرکاری ٹھیکوں کے لیے ٹینڈر جمع کراتی ہیں۔

روزنامہ گارڈین اور روزنامہ ٹائمز کے مطابق وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ان تجاویز سے پہلے ہی تمام مقامی کپمنیوں پر سختی کا آغاز کر دیا ہے اور وہ اس سال جون کے بعد اپنے اصل مالکان کے نام خفیہ نہیں رکھ سکیں گی۔

وزیر اعظم کا خیال ہے کہ برطانیہ میں جائیداد اور سرمائے کے اصل مالکان کے نام ظاہر کرنے کے حوالے سے غیر ملکی اور مقامی کمپنیوں پر ایک ہی قانون کا اطلاق ہو گا۔

ٹیکس چھپانے کی نیت سے نام خفیہ رکھ کر برطانیہ میں جائیداد خریدنے اور دیگر سرمایہ داری کرنے کے خلاف نئی تجاویز پاناما پیپرز کے منظر عام پر آنے کے بعد پیش کی جا رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption برطانیہ میں جائیداد میں سرمایہ کاری ایک پرکشش کاروبار ہے جس کی وجہ یہاں کی مستحکم سیاسی اور کاروباری فضا ہے

پاناما لیکس کے بعد وزیر اعظم کے مالی معاملات پر بھی خاصی لے دے ہو رہی ہے کیونکہ ایک مرتبہ انھوں نے بھی اپنے والد کی آف شور کمپنی میں سرمایہ کاری کی تھی۔

ان خبروں کے بعد وزیر اعظم پر سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوگیا ہے اور وہ اگلے ماہ لندن میں بدعنوانی کے خلاف ایک عالمی کانفرنس بھی منعقد کر رہے ہیں۔ روزنامہ ٹائمز کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ کیمرون اس کانفرنس میں ان نئے اقدامات اور تجاویز کا اعلان کریں گے جن کے تحت برطانیہ میں جائیداد خریدنے والی غیر ملکی کمپنیوں کو مجبور کیا سکے گا کہ وہ جائیداد کے اصل مالکان کے نام ظاہر کریں۔

برطانیہ کے محکمہ برائے کاروبار، جدّت اور ہنر نے اس سلسلے میں جو مسودہ شائع کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ’جائیداد کی خریداری ایک ایسا ذریعہ ہے جسے با آسانی جرائم سے کمایا ہوا پیسہ چھپانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جائزے میں شامل قانونی کمپنیوں میں سے ایک چوتھائی ایسی تھیں جن کے صارفین نے اپنا کالا دھن سفید کرنے اور فراڈ کی غرض سے برطانیہ میں جائیداد خریدنے کی کوشش کی تھی۔‘

واضح رہے کہ غیر ملکی خریداروں کے لیے برطانیہ میں جائیداد میں سرمایہ کاری ایک پرکشش کاروبار ہے جس کی وجہ یہاں کی مستحکم سیاسی اور کاروباری فضا ہے۔

اسی بارے میں