سعودی عرب میں پاکستانی شہری کا سر قلم

سعودی عرب میں ایک پاکستانی شہری کا منشیات سمگل کرنے کے جرم میں سر قلم کر دیا گیا ہے۔

جمعرات کے روز سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے مطابق شاہ زمان خان سید پر ملک میں ایمفیٹا مائن اور ہیروئن سمگل کرنے کی کوشش کا جرم ثابت ہوا تھا۔

سزائے موت پر عمل درآمد دارالحکومت ریاض میں کیا گیا ہے۔

اس سے رواں سال کٹر قدامت پسند ریاست میں سزائے موت کے واقعات کی تعداد 86 ہو گئی ہے۔ ان میں سے 47 کی سزائے موت پر ایک ہی دن میں عمل درآمد ہوا تھا جن پر ’دہشت گردی‘ کا جرم تھا۔

سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے مجرموں میں سے زیادہ تر کے سر قلم کیے جاتے ہیں۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ سعودی عرب گذشتہ سال سزائے موت پر عمل درآمد کرنے والے ممالک میں تیسرے نمبر پر رہا۔ جن افراد کی سزاؤں پر عمل درآمد ہوا ان کی تعداد کم از کم 158 ہے۔

دوسری جانب اس فہرست میں دوسرا نمبر پاکستان کا تھا جہاں 326 افراد کو پھانسی دی گئی جبکہ پہلے نمبر پر ایران رہا جس نے کم از کم 977 افراد کو پھانسیاں دیں۔

سعودی عرب میں یہ تازہ واقعہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی صدر براک اوباما سعودی عرب کے دورے پر پہنچے ہیں۔

برطانوی انسانی حقوق کی تنظیم نے صدر اوباما سے کہا ہے کہ وہ ان تین نوجوان افراد کی سزائے موت کے مسئلے کو اٹھائیں جو حراست میں لیے جانے کے وقت نابالغ تھے۔

یہ تینوں نوجوان ان شیعہ عالم نمر المنر کے بھتیجے تھے۔

اسی بارے میں