’ایران شام میں لڑنے کے لیے افغان جنگجو بھیج رہا ہے‘

Image caption جب بھی کسی جنگجو کی لاش شام سے ایران آتی ہے تو اس کی تدفین فوجی انداز سے کی جاتی ہے

شام میں پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کے جائزے کے بعد بی بی سی فارسی کو اس طرح کے ثبوت ملے ہیں کہ ایران ہزاروں کی تعداد میں افغان جنگجوؤں کو شامی فوج کی مدد کے لیے بھیجتا رہا ہے۔

ان جنگجوؤں میں سے بیشتر کا تعلق ہزارہ برادری سے ہے جو ایران میں غریب اور کمزور طبقے کی مہاجر برادری کا حصہ ہیں۔

انھیں شام میں لڑنے والے اس کثیر القومی شیعہ مسلم جنگجوؤں میں شامل ہونے کے لیے بھیجا جاتا ہے جو ایران کی جانب سے شامی صدر بشار الاسد کی حمایت کا حصہ ہے۔

ایران سے شام جانے والے ایسے بہت سے جنگجو میدان چھوڑ کر فرار بھی ہوئے ہیں اور یورپ جانے والے پناہ گزینوں میں شامل ہو چکے ہیں۔

جرمنی کے ایک چھوٹے سے شہر میں میری ملاقات ایسے ہی ایک نوجوان عامر سے ہوئی۔

وہ مہاجر ماں باپ کی اولاد کے طور پر ایران کے شہر اصفہان میں پیدا ہوئے تھے اور اب خود یورپ میں پناہ کے متلاشی تھے۔

ایران میں رہنے والے قریب 30 لاکھ افغانیوں میں زیادہ تر کی طرح وہ بھی دوئم درجے کے شہری کے طور پر وہاں رہتے تھے۔

بغیر کسی قانونی دستاویز کے ان کے لیے تعلیم حاصل کرنا اور روزگار پانا مشکل تھا۔ گرفتاری اور ملک بدری کا خوف ان کے لیے روزمرہ کی حقیقت تھی۔

لیکن ایک دن عامر کو ایک ایسی پیشکش ملی کہ ان کی زندگی ہی بدل کر رہ گئي۔

وہ بتاتے ہیں: ’ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے قریبی کچھ افغانیوں نے مجھ سے اور میرے ساتھیوں سے مسجد میں رابطہ کیا۔ انہوں نے ہمیں شیعوں کے مقدس مقامات کو داعش (دولتِ اسلامیہ) سے بچانے کے لیے شام چلنے کو کہا۔‘

Image caption ایک تخمینے کے مطابق ایران میں بسنے والے تقریبا دس ہزار افغانیوں کو شام لڑنے کے لیے بھیجا جا چکا ہے

عامر آگے بتاتے ہیں: ’انھوں نے کہا کہ وہ ہمارے لیے پاسپورٹ کا انتظام کریں گے اور اس کے بعد ہماری زندگی آسان ہو جائے گی۔ ہم ایرانی شہری بن جائیں گے اور مکان، کار تمام اشیا خرید سکیں گے۔‘

عامر فاطمیہ بریگیڈ کا حصہ بن گئے جہاں انھیں چھوٹی موٹی تربیت بھی دی گئی۔

افغانیوں کے اس دستے کی قیادت پاسدارانِ انقلاب کے افسر کرتے ہیں

عامر نے بتایا: ’جس رات ہم تہران میں وارمين کے نزدیک كارچاك بیس میں آئے، اسی دن ہم سب کے موبائل فون ضبط کر لیے گئے اور دو ہفتے کی ٹریننگ کے بعد ہمیں سیاہ شیشوں والی بس سے ایئر پورٹ لایا گیا۔"

بغیر کسی پاسپورٹ کے یہ افغان جنگجو چارٹرڈ پرواز سے براہ راست شام پہنچے۔

عامر کہتے ہیں: ’پاسدارانِ انقلاب تمام چیزوں کا خیال رکھ رہے تھے۔ ہم نے وہاں پہنچ کر لڑائي سے ہونے والا نقصان دیکھا۔ وہ میدان جنگ تھا۔ جو میں نے وہاں دیکھا اس کا مجھ پر اب تک اثر ہے۔ میں ٹھیک سے سو نہیں پاتا ہوں۔ بغیر کسی بات کے غصہ ہو جاتا ہوں۔‘

برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی کے پروفیسر سکاٹ لوکاس شام میں ایران کے آپریشن کو بہت نزدیک سے دیکھتے آئے ہیں۔

ان کے مطابق سنہ 2012 میں پہلی بار افغان جنگجوؤں کو شام بھیجا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISNA

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے فیصلہ کیا تھا کہ صرف شامی فوج کی بدولت کامیابی نہیں مل سکتی۔ فوج کے ہراول دستے میں جوان بہت کم رہ گئے تھے اور مرد بھرتی ہونے سے بچنے کی کوشش میں تھے۔‘

شام میں کم ہوتے جنگجوؤں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے وہ ایرانی افغان، لبنانی اور عراقی اور پاکستانی شیعہ جنگجوؤں سے توقع رکھنے لگے۔

ہم نے شام میں لڑنے والے والے عامر جیسے کئی افغانیوں سے یورپ میں ملاقات کی اور سب نے ایسی ہی کہانیاں ہمیں سنائیں۔

ایران نے کتنے افغانیوں کو شام بھیجا ہے اور کتنے وہاں اب تک مارے جا چکے ہیں اس کے تعلق سے کوئی سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں۔

انسانی حقوق کی علمبردار تنظيم ہیومن رائٹس واچ نے حال ہی میں کہا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب نے تقریباً 10 ہزار ایسے افغانیوں کو بھرتی کیا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ ایرانی حکومت کسی بھی افغان کو شام بھیجنے کا انتظام کرتی ہے۔ وہ ایسی تمام باتوں کو مسترد کرتے ہیں۔

ایران کی طرف سے سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جو بھی افغان شام جاتے ہیں وہ تمام اپنی مرضی سے مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے جاتے ہیں۔

مگر ہر ہفتے جب ایسے افغان جنگجوؤں کی لاشیں شام سے ایران آتی ہیں تو ان کی تدفین ایرانی فوج کی رسم رواج کے مطابق کی جاتی ہے۔

اسی بارے میں