شام میں محصور شہریوں کے انخلا کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 250 زخمیوں کو لبنانی سرحد کے قریب واقع قصبوں زبدانی اور مدایہ سے نکالا جا رہا ہے

امدادی اداروں نے اقوامِ متحدہ کی مدد سے شام کے محصور قصبات سے پانچ سو زخمی افراد کے انخلا کا عمل شروع کر دیا ہے۔

ان میں سے نصف کا تعلق ایسے قصبوں سے جو شامی افواج اور اس کے حمایت یافتہ گروپوں کے محاصرے میں ہیں جبکہ باقی کا تعلق باغیوں کے زیرِ محاصرہ علاقوں سے ہے۔

٭ادلب میں ’شامی فوج کی بمباری‘ سے 44 ہلاک

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق شام میں اس وقت تقریباً پانچ لاکھ لوگ اپنے اپنے علاقوں میں محصور ہیں۔

شام میں قیامِ امن کے لیے جینیوا میں ایک ہفتہ قبل شروع ہونے والی امن بات چیت مشکلات کا شکار ہو چکی ہے اور اب یہ واضح نہیں کہ سات ہفتے سے جاری عارضی جنگ بندی بھی برقرار رہ پائے گی یا نہیں۔

شامی حزبِ اختلاف کے نمائندے اس بات چیت سے حکومت پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے واک آؤٹ کر گئے تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 250 زخمیوں کو لبنانی سرحد کے قریب واقع قصبوں زبدانی اور مدایہ سے نکالا جا رہا ہے۔ حکومتی افواج نے ان دونوں قصبات کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

اس کے علاوہ ملک کے شمال مغربی علاقے میں فواہ اور کیفرایا نامی قصبوں سے بھی 250 زخمی افراد کے انخلا کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ان دونوں قصبات میں زیادہ تر لوگ حکومت کی حمایتی ہیں اور انھیں باغیوں نے گھیر رکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفان دوجارک کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی زندگی کو خطرہ ہے اور انھیں طبی سہولیات کی سخت ضرورت ہے۔

انھوں نے مزید کہا ’افسوس کی بات یہ ہے کہ طبی بنیادوں پر انخلا کے لیے بھی معاہدے کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔‘

یہ شامی آبادی کا سنہ دسمبر 2015 کے بعد سے یہ پہلا بڑا انخلا ہے۔

دریں اثنا جینیوا میں شامی حکومت کے نمائندے بشر الجعفری نے اصرار کیا ہے کہ مذاکرات جاری رہیں گے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کسی بھی فریق کے پاس ’ویٹو پاور‘ موجود نہیں ہے۔

جعفری نے مزید کہا ’بات چیت سے واک آؤٹ کر کے وہ (حزبِ اختلاف کے نمائندے) شاید ایک بڑی رکاوٹ دور کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں ہم ایک حل تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں