اتنے فنکار کیوں مر رہے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’بس کرو 2016‘ اور اس سال کو برا بھلا کہنے والے اس جیسے کئی اور فقرے لوگوں کی زبانوں پر ہیں

سال 2016 کو شروع ہوئے ابھی صرف چار ماہ ہوئے ہیں لیکن اگر اب تک کی فنکاروں کی اموات کو دیکھا جائے تو اس حوالے سے یہ ایک سیاہ ماہ رہا ہے۔

جنوری کے دوسرے ہفتے میں ڈیوڈ بوؤی اور اس کے ایک ہی ہفتے بعد ’ہیری پوٹر‘ میں سنیپ کا کردار ادا کرنے والے معروف اداکار ایلن رکمین کی موت واقع ہوگئی۔ اور اس ہفتے مشہورگلوکار پرنس امریکی شہر مینیسوٹا میں انتقال کر گئے ۔

’بس کرو 2016‘ اور اس سال کو برا بھلا کہنے والے اس جیسے کئی اور فقرے لوگوں کی زبانوں پر ہیں۔ تو کیا فنکاروں کی اموات اب ایک نیا معمول بن گیا ہے؟

بی بی سی کی اموات کی خبروں کے ایڈیٹر نک سرپل کے مطابق اس کا جواب ہے ہاں۔ بی بی سی کے ریڈیو فور سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اب تک اس سال ہونے والی اموات کی تعداد واقعی غیر معمولی ہے۔

نک سرپل، بی بی سی کے ریڈیو، ٹی وی اور آن لائن نشریات کے لیے فنکاروں اور معروف شخصیات کی اموات کی خبریں تیار کرتے ہیں۔

بی بی سی کی طرف سے شائع ہونے والی اموات کی خبروں میں گزشتہ کچھ سالوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

بی بی سی اموات کی خبریں اپنے پاس پہلے سے ہی لکھ کر محفوظ کر لیتی ہے۔ اور بی بی سی کی فائلوں میں اس وقت تقریباً 1500 ایسی خبریں محفوظ ہیں۔ نک سرپل موت کی خبروں کے اس بینک میں ہر ہفتے کچھ مزید خبروں کا اضافہ کرتے ہیں۔

دوسرے اخبارات پہ نظر ڈالیں تو ڈیلی ٹیلی گراف معروف شخصیات کی اموات پر مبنی تصاویر سے بنی ایک آن لائن گیلری اپنی ویب سائٹ پر رکھتا ہے اور اسے پورا سال اپ ڈیٹ کرتا ہے۔

اس گیلری میں 2014 کے مئی کے مہینے تک مرنے والے لوگوں کی تعداد 38 تھی۔ جبکہ 2015 کے مئی تک یہ تعداد 30 تھی۔ تاہم اس سال یہ تعداد مئی شروع ہونے سے پہلے ہی 75 تک پہنچ گئی ہے۔ معروف شخصیات کی اموات کی پیشن گوئی کرنے والی ویب سائٹ deathlist.net ہر سال کے شروع میں 50 ایسی شخصیات کا نام ویب سائٹ پر لکھتی ہے جن کی، ان کے خیال میں اس سال موت واقع ہوگی۔ عمومً ان کی پیش گوئی کی ہوئی پانچ شخصیات میں سے دو یا تین ہی ٹھیک ثابت ہوتی ہیں تاہم اس سال اب تک ان کی پانچ پیشن گوئیاں صحیع ثابت ہوچکی ہیں۔

اس کی وجہ کیا ہے؟

نک سرپل کہتے ہیں کہ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ 1960 میں شہرت پانے والے فنکار اب 70 سال عمر کے دائرے میں داخل ہورہے ہیں اور مر رہے ہیں۔

نک کہتے ہیں ’آج معروف لوگوں کی تعداد ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ میرے باپ اور دادا کے وقت میں معروف شخصیات کا تعلق صرف فلموں اور سینیما سے تھا، تب ٹی وی نہیں ہوتا تھا۔

1946 سے لے کر 1964 تک کے عرصے کے درمیان پیدا ہونے والے لوگوں کو ’بےبی بوم جینیریشن‘ کہا جاتا ہے۔ اس عرصے کے درمیان آبادی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایلن رکمین (69)، ڈیوڈ بوؤی (69)، وکٹوریا ووڈ (62) اور پرنس (57) ان سب کی عمریں 52 – 72 کی عمروں کے زمرے میں آتی ہیں۔

2014 میں صرف امریکہ میں ہونے والی ایک مردم شماری کے مطابق سات کروڑ ساٹھ لاکھ افراد کا تعلق ’بےبی بومر جینیریشن‘ سے تھا۔ جو کہ اس وقت امریکہ کی 23 فیصد آبادی کا حصہ تھے۔

یہاں برطانیہ میں 65 سال یا اس سے اوپر کی آبادی کی تعداد 18 فیصد ہے۔ 40 سال قبل یہ تعداد 47 فیصد کم تھی۔

بے بی بومر جینیریشن کی آبادی میں اضافے کی وجہ تو تھی، لیکن آبادی بڑھنے کے ساتھ ہی لوگوں کے معروف ہونے کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔ اور یہی وجہ ہے کہ اب 52 سال سے لے کر 72 سال کی عمر تک کے لوگوں کی اموات میں اضافہ ہورہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مرنے والے فنکار جیسا کہ ایلن رکمین (69)، ڈیوڈ بوؤی (69)، وکٹوریا ووڈ (62) اور پرنس (57) ان سب کی عمریں 52 – 72 کی عمروں کے زمرے میں آتی ہیں۔