شمالی کوریا کی جوہری تجربات ملتوی کرنے کے لیے شرط

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شمالی کوریا پر اقوامِ متحدہ نے سنہ 2006 میں جوہری تجربہ کرنے اور بیلسٹک میزائل کے استعمال کی پابندی عائد کی تھی

شمالی کوریا نے کہا ہے کہ اگر امریکہ جنوبی کوریا کے ساتھ اپنی جنگی مشقیں بند کر دے گا تو ایسی صورت میں وہ اپنے جوہری تجربے کو معطل کر سکتا ہے۔

٭ پانچویں جوہری تجربے کی تیاری

٭ ’میزائل تجربہ ناکام رہا‘

وزیرِ خارجہ ری سو یونگ نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں کہا کہ ان کا ملک بین الاقوامی پابندیوں سے ڈرتا نہیں ہے۔

اس سے قبل ایک امریکی اعلیٰ عہدے دار نے جنوبی کوریا کے ساتھ مشقوں کا دفاع کیا تھا۔

اسی دوران پیانگ یانگ کی جانب سے کہا گیا کہ سنیچر کو آبدوز کے ذریعے بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

ملک کے سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق شمالی کوریا تمام تکینکی صلاحیت رکھتا ہے اور پانیوں کے اندر سے حملہ کر سکتا ہے۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا پر اقوامِ متحدہ نے سنہ 2006 میں جوہری تجربہ کرنے اور بیلسٹک میزائل کے استعمال کی پابندی عائد کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اس سے قبل وزیرِ خارجہ ری سو یونگ نے کہا تھا کہ ان کے ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جوہری ہتیھاروں کا مقابلہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے شمالی کوریا کو اپنے دفاع کے لیے اس قسم کے ہتھیاروں کی تیاری پر مجبور کیا ہے۔

انھوں نے تجویز دی کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان جنگی مشقوں کو روکنے کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کرنے کی راہ نکل سکتی ہے۔

وزیرِ خارجہ ری سو یونگ نے مزید کہا کہ اگر ہم اسی طرح لڑائی کے راستے پر رہے تو اس کے نہ صرف دونوں ممالک پر بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن نتایج ہوں گے۔

جزیرہ نما کوریا میں جوہری جنگ کی مشقیں بند کریں تب ہم بھی جوہری تجربات روک دیں گے۔‘

اسی بارے میں