امریکہ و برطانیہ کے تجارتی معاہدوں میں برسوں لگ سکتے ہیں

Image caption امریکی صدر تین روزہ دورے پر برطانیہ میں موجود ہیں

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اگر برطانیہ نے یورپی یونین کو چھوڑ دیا تو اس کے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدوں میں دس برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر نے کہ اس پر عملی طور پر ہم کچھ کر سکیں تب تک ہمیں پانچ سال لگ سکتے ہیں، دس سال لگ سکتے ہیں۔

٭’برطانیہ کا یورپی یونین سے نکلنا عالمی معیشت کے لیہ بڑا دھچکا ہو گا‘

٭کیمرون کے لیے کڑا امتحان

خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر نے برطانیہ کو یورپین یونین سے علیحدگي پر متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا وہ امریکہ کے ساتھ تجارت کے معاملے میں قطار میں آخری ہوگا۔

تاہم ان کے اس بیان پر یورپی یونین چھوڑنے کے حق میں مہم چلانے والوں نے شدید تنقید کی تھی۔

یوکے آئی پی کے نائجل فراج نے کہا کہ اوباما برطانیہ کو زیر کر رہے تھے جبکہ ٹوری لیام فوکس نے کہا کہ ان کے خیالات بے محل ہیں۔

امریکی صدر نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ برطانیہ یورپی یونین سے علحیدگی کی صورت میں اتنی تیزی سے امریکہ کے ساتھ بات چیت نہیں کر پائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ہم اپنے سب سے بڑے تجارتی پارٹنر یورپی مارکیٹ کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے بات چیت کی کوششیں ترک نہیں کریں گے۔

ادھر امریکی صدارتی دوڑ میں شامل ہلیری کلنٹن نے بھی واضح کیا ہے کہ یورپی یونین چھوڑنا برطانیہ کی غلطی ہوگا۔

ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ ’ ہمیں اپنے سب سے قریبی دوست اور اتحادیوں کی بات کو سننا چاہیے۔‘

خیال رہے کہ یورپی یونین میں رہنے یا اس سے علیحدہ ہونے کے لیے برطانیہ میں 23 جون کو ریفرنیڈم ہوگا۔

امریکی صدر تین روزہ دورے پر برطانیہ میں موجود ہیں۔

اسی بارے میں