امریکہ ایران سے بھاری پانی خریدے گا

امریکہ ایران سے جوہری ری ایکٹروں میں استعمال ہونے والا 32 ٹن ہیوی واٹر (بھاری پانی) خریدے گا۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق 86 لاکھ ڈالر پر مشتمل یہ بھاری پانی ایران کے ساتھ گذشتہ سال ہونے والے جوہری معاہدے کے تحت اس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

* منجمد ایرانی اثاثوں سے دو ارب ڈالر لینے کی اجازت

* ایران کو منجمد اثاثوں سے بھاری رقوم کی توقع

حکام کا کہنا ہے کہ یہ بھاری پانی جس سےگریڈ پلوٹونیم ہتھیار بنائے جا سکتے ہیں تحقیقی مقاصد کے لیے دوبارہ فروخت کر دیا جائے گا۔

امریکہ میں رپبلکن پارٹی کی جانب سے اس معاہدے پر تنقید کی جا رہی ہے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کے رپبلکن سپیکر پال رائن کا اس حوالے سے کہنا ہے ’یہ دہشت گردی کو فروغ دینے والی دنیا کی بڑی سرکاری ریاست کو ایک غیر معولی رعایت دینا ہے۔‘

ایران سے خریدا جانے والے اس بھاری پانی کو ابتدائی طور پر ٹینیسی میں اوک رج نیشنل لیبارٹری میں ذخیرہ کیا جائے گا۔

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طےپانے والے جوہری معاہدے کے تحت، ایران کو صرف آرک نیوکلئیر ری ایکٹر میں معتدل کرنے والا بھاری پانی استمعال کرنے کی اجازت ہوگی تاہم اسے اس بھاری پانی کی افزودہ یورینیم اور کسی بھی اضافی سپلائی کو بین الااقوامی مارکیٹ میں فروخت کرنا ہو گی۔

امریکہ کی توانائی سے متعلق محکمے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ مستقبل میں ایران سے خود بخود بھاری پانی نہیں خریدے گا اور ایران کو اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے نئی ذرائع تلاش کرنے ہوں گے۔

اسی بارے میں