’امریکہ مزید 250 فوجی شام بھجوائے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فوجی کوششیں شام کے مسئلے کا واحد حل نہیں ہیں

امریکی حکام کے مطابق صدر براک اوباما 250 امریکی فوجیوں کو شام بھجوائیں گے جو وہاں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف لڑائی میں مصروف مقامی ملیشیا کی مدد کریں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد مزید سنی عربیوں کو اس بات پر ابھارنا ہے کہ وہ شمال مشرقی شام میں کرد جنگجوؤں کا ساتھ دیں۔

امریکی فوجیوں کی وہاں مزید تعیناتیوں کے بعد غیر لڑاکا فوجیوں کی تعداد 300 ہو جائے گی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بی بی سی کو دیے جانے والے انٹرویو میں صدر اوباما نے شام میں زمینی فوج بھجوانے کے امکان کو رد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ فوجی کوششیں شام کے مسئلے کا واحد حل نہیں ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹس کے مطابق شام بھجوائے جانے والے اضافی فوجیوں میں خصوصی آپریشن کرنے والے فوجی شامل ہیں۔ اس گروپ میں طبی عملہ اور سامان کی رسد پہنچانے والے دستے بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برطانیہ کے دورے کے موقع پر انھوں نے کہا تھا کہ شام کا مسئلہ ’دل سوز اور انتہائی پیچیدہ ہے‘

بتایا گیا ہے کہ اس فوجی دستوں کو شام بھجوانے کے حوالے سے صدر اوباما کی جانب سے رسمی اعلان پیر کو ہین اوور میں متوقع ہے۔ جہاں وہ جرمنی، فرانس، برطانیہ اور اٹلی کے رہنماؤوں کے ساتھ شام کی صورتحال اور خارجہ امور پر بات کریں گے۔

برطانیہ کے دورے کے موقع پر انھوں نے کہا تھا کہ شام کا مسئلہ ’دل سوز اور انتہائی پیچیدہ ہے۔‘

’محفوظ علاقے‘ بہت مشکل

امریکی صدر نے مزید فوجی دستے شام بھجوانے کے مطالبے کی تائید نہیں کی تھی جہاں پانچ سال سے جاری لڑائی میں ڈھائی لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور ایک کروڑ دس لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

ان افراد میں سے 40 لاکھ بیرون ملک جا چکے ہیں جن میں زیادہ تر ایسے ہیں جو یورپ پہنچنے کے لیے پرخطر سفر کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں