سعودی عرب میں ملازمائیں کہاں سے منگوائیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سعودی عرب میں مختلف ملکوں سے گھریلو ملازمائیں آتی ہیں، جنھیں بعض اوقات نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے

سعودی عرب میں اس سوال نے ٹوئٹر پر ہنگامہ برپا کر رکھا ہے کہ گھر کا کام کس کو کرنا چاہیے، جس سے ملک کے مقبول رجحانات کا اندازہ ہوتا ہے۔

لیکن سوال یہ نہیں کہ آیا یہ کام میاں کرے یا بیوی۔ بلکہ یہ ہے کہ سعودی خاندان اپنے ملازم کہاں سے برآمد کریں، بیرونِ ملک سے یا پھر سلطنت کے جنوبی حصے سے۔

یہ ساری کہانی اس وقت شروع ہوئی جب سعودی عرب کی گنی چنی خواتین سیاست دانوں میں سے ایک حیا المانی نے تجویز پیش کی کہ عورتوں کو گاڑی چلانے کا حق ملنا چاہیے۔ اگرچہ یہ خاصا پِٹا ہوا مضمون تھا لیکن سعودی عرب میں یہ اب بھی بےحد متنازع ہے، چنانچہ مذہبی رہنماؤں نے ٹوئٹر پر اس کی خوب مخالفت کی۔

ایسے ہی ایک مخالف سعید حسین الزہرانی ہیں جنھوں نے المانی کا ایک مضمون ڈھونڈ نکالا جو انھوں نے 30 سال پیشتر گھریلو ملازمین کے بارے میں لکھا تھا۔

’آپ جانتے ہیں حیا المانی کون ہیں؟ وہی جو عورتوں کو گاڑی چلانے کے حق کا مطالبہ کر رہی ہیں، انھوں نے اس بات کا بھی مطالبہ کیا تھا کہ گھریلو ملازمائیں بیرونِ ملک کی بجائے جنوبی علاقوں سے منگوائی جائیں۔‘

اس مضمون میں المانی نے کہا تھا کہ ملک کے امیر طبقے کو گھروں کی صفائی ستھرائی کے لیے بیرونِ ملک سے خادمائیں منگوانے کی بجائے خود سعودی عرب کے جنوبی حصوں سے غریب عورتوں کی خدمات حاصل کرنا چاہییں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس طرح ملک کے وسائل کا زیادہ بہتر استعمال ہو گا۔

بس پھر کیا تھا، ٹوئٹر پر طوفان کھڑا ہو گیا۔ مانی کے نام کا ایک ہیش ٹیگ ایک ہی دن میں ایک لاکھ سے زیادہ مرتبہ استعمال کیا گیا۔

زیادہ تر لوگوں نے سعودی عورتوں کے بطور خادمہ کام کرنے کے خیال پر برہمی ظاہر کی اور اس بات کو بھی نشانہ بنایا گیا کہ ملک کے جنوبی حصے کی خواتین ہی کا کیوں ذکر کیا گیا ہے۔

ایک صارف نے لکھا: ’میں خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ سعودی لڑکیاں، چاہے وہ شمال کی ہوں یا جنوب کی، مشرق کی ہوں یا مغرب کی، کبھی گھریلو ملازمہ کے طور پر کام نہیں کریں گی۔ ہمارے سر بلند رہیں اور ہماری بیٹیوں کا وقار قائم و دائم رہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سعودی عرب میں مختلف ملکوں سے گھریلو ملازمائیں آتی ہیں جنھیں بعض اوقات نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے

تاہم اکا دکا لوگ ایسے بھی تھے جنھوں نے اس عمومی رجحان کے خلاف آواز اٹھائی: ’بطور ملازم کام کرنا بری بات نہیں ہے۔ اگر یہ بری بات ہے تو پھر آپ اسے کسی انڈونیشیائی یا فلیپینو کے لیے کیوں قبول کرتے ہیں؟ کیا آپ کا خیال ہے کہ سعودی کوئی خاص قوم ہیں؟‘

تاہم ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے اور اکثریت سعودی خواتین کو ملازمہ کے روپ میں دیکھنے کے خیال کو بھی برداشت نہیں کر پا رہی۔

ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا: ’جنوب کی عورتیں آپ سے زیادہ باعزت ہیں۔ جنوب کی عورتیں بطور ملازمہ نہیں پیدا ہوئی تھیں۔‘

اسی طوفان کے دوران نہ صرف المانی کو پارلیمان سے نکال باہر کرنے کی آوازیں اٹھائی گئیں بلکہ عورتوں کے بطور سیاست دان قبول کرنے کے تصور پر بھی حملہ کیا گیا۔

سعودی عرب میں پہلی بار 2013 میں خواتین کو شوریٰ کونسل کا رکن بننے کا اس وقت حق ملا تھا، جب سابق شاہ عبداللہ نے 30 خواتین کو وہاں جگہ دی تھی۔

المانی نے خود پر ہونے والے حملوں کا جواب دیا ہے۔ انھوں نے ایک حکومت نواز اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے الفاظ سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے گئے ہیں: ’یہ ایک پرانی اخباری رپورٹ کا حصہ ہے جو 1980 کی دہائی میں شائع ہوئی تھی۔‘

اسی بارے میں