فضائی حملوں میں دولتِ اسلامیہ کی کروڑوں ڈالر نقدی تباہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’دولتِ اسلامیہ اپنی گاڑیاں فروخت کرنے پر مجبور ہے‘

امریکی فوج کے حکام کے مطابق فضائی حملوں میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کی 80 کروڑ ڈالر تک نقدی تباہ کی گئی۔

بغداد میں موجود امریکی فوج کے میجر جنرل پیٹر گیسٹن کے مطابق امریکہ نے دولتِ اسلامیہ کے نقد رقم رکھنے کے ٹھکانوں کو متعدد بار نشانہ بنایا۔

* دولتِ اسلامیہ کی دولت

* دولتِ اسلامیہ امیر ترین دہشت گرد تنظیم

دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکہ کی سربراہی میں قائم اتحاد کے ڈپٹی کمانڈر میجر جنرل پیٹر گیسٹن کے مطابق تنظیم کے نقدی رکھنے والے سٹورز پر 20 کے قریب فضائی حملے کیے گئے۔

انھوں نے کہا ہے کہ صرف عراقی شہر موصل میں ایک حملے میں اندازاً 15 کروڑ ڈالر کی نقدی تباہ کر دی گئی۔

انھوں نے بتایا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے والی فورسز کو تنظیم کے ایک مکان میں موجود اس کمرے کے بارے میں خفیہ اطلاع ملی جہاں نقدی رکھی گئی تھی اور اس کمرے کو فضا سے بم حملے میں تباہ کر دیا گیا۔

میجر جنرل پیٹر گیسٹن کےمطابق تباہ کی جانے والی رقم کے بارے میں بالکل درست معلومات ملنا تو مشکل ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق یہ رقم 50 کروڑ سے 80 کروڑ ڈالر تک ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے پاس موجود دولتِ کے بارے میں حتمی طور پر کچھ بتانا مشکل ہے تاہم تیل کے کنوؤں پر قبضے اور ٹیکس محصولات کی وجہ سے گذشتہ برس اس کی آمدن کا اندازہ دو ارب ڈالر تک لگایا گیا تھا۔

تاہم اس کے بعد فضائی حملوں میں تنظیم کے زیر قبضہ تیل کے زخائر اور علاقوں میں کمی آئی ہے۔

میجر جنرل پیٹر گیسٹن کے مطابق امریکی انٹیلیجنس کے مطابق تنظیم کو اس وقت نقد رقم کی کمی کا سامنا ہے اور اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اس نے گاڑیاں فروخت کرنا شروع کر دی ہیں۔

جنوری میں لندن سے شام میں حقوق انسانی کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ایک گروپ کے مطابق دولتِ اسلامیہ نے غیر متوقع صورتحال کی وجہ سے اپنے جنگجوؤں کی تنخواہوں میں نصف کمی کا اعلان کیا۔

میجر جنرل پیٹر گیسٹن کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے حوصلے پست ہو رہے ہیں، ہم ان کی رقم کی ادائیگی کی صلاحیت کو دیکھ رہے ہیں، ان کی لڑنے کی صلاحیت کو دیکھ رہے ہیں، ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ ’داعش‘ سے نکلنے کے راستے دیکھ رہے ہیں۔

بعض معاملات میں منحرف ہونے والوں کو خواتین کے حلیے میں اور پناہ گزینوں کے روپ میں گرفتار کیا۔

امریکی جنرل کے مطابق عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے آنے والے جنگجوؤں کی تعداد کم ہو کر اب 200 سو ماہانہ کے قریب رہ گئی ہے جو ایک برس قبل 15 سو سے 2 ہزار کے قریب تھی۔

اسی بارے میں