ہتھنی کی موت کے بعد ہاتھیوں کی سواری پر پابندی کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook

کمبوڈیا میں سیاحوں کو سیر کروانے والی ایک ہتھنی کی موت کے بعد کے بعد ہزاروں لوگوں نے ہاتھیوں پر سواری کے خلاف ایک درخواست پر دستخط کیے ہیں۔

ایک ہتھنی ’انگکور واٹ‘ کے مشہور مندروں تک سیاحوں کو لاتی لیجاتی تھی۔ مادہ ہاتھی 40 ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی میں کام کرنے کے دوران مرگئی۔

سیاحوں کے لیے علاقے کے دورے کے منتظم کا کہنا ہے کہ اب وہ درجہ حرارت میں کمی آنے تک ہاتھیوں سے بہت زیادہ کام نہیں کروائیں گے۔

آن لائن درخواست میں لکھا ہے کہ اکثر جانوروں کےساتھ ہونے والا ظلم و ستم وہ ڈھکا چھپا رہتا ہے اور یہ جانوروں کے لیے بے حد اذیت کا باعث ہوتا ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ اس ہاتھی کی موت سے سب کی آنکھیں کھل جانی چاہیں۔

جانوروں کے حقوق کے ادارے بہت عرصے سے قید کیے جانے والے ہاتھیوں کی ظالمانہ طریقے سے تربیت کیے جانے کی شکایت کرتے رہے ہیں۔

’دا چیرٹی ورلڈ اینیمل پروٹیکشن‘ نامی تنظیم نے ہاتھیوں پر سواری کو تفریحی مشاغل میں ظالمانہ طریقوں میں سر فہرست قرار دیا ہے۔

سیاحتی کمپنی جیسے کہ ’ایس ٹی اے‘ ، ’انٹراپڈ‘ اور ’کوٹکو‘ اب اس مقبول سرگرمی کے بارے میں اشتہار نہیں دیتے۔

انگکور ایلیفینٹ کمپنی کے منتظم اون کری نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مادہ ہاتھی 45 منٹ میں 2.1 کلومیٹر چلنے کے بعدگر پڑی۔ حیوانات کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہاتھی کی موت شدید گرمی کی وجہ سے ہوئی کیونکہ گرمی کی وجہ سے وہ دباؤ، بلڈ پریشر اور صدمے سے دوچار ہوئی اور اسے دل کا دورہ پڑا۔ ‘

اس ہاتھی کی عمر 40 سے 45 سال کے درمیان تھی جو ایشیائی ہاتھیوں میں سب سے زیادہ ہے۔

’انٹرنیشل یونین فار کنزویشن آف نیچر‘ کے مطابق ایشیائی ہاتھی خطرے کا شکار جانور سمجھا جاتا ہے۔ کیمبوڈیا میں 70 کے قریب پالتو ہاتھی موجود ہیں۔

اسی بارے میں