27 سال انتظار کے بعد انصاف کی فراہمی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس سانحے کی دو مزید مجرمانہ تحقیقات جاری ہیں جو سنہ 2016 کے اختتام تک مکمل ہوسکتی ہیں

برطانیہ میں سنہ 1989 میں لیورپول اور نوٹنگھم فارسٹ فٹبال کلبوں کی ٹیموں کے مابین ہیلزبرو میں ہونے ایف اے کپ سیمی فائنل میچ کے دوران پیش آنے والے حادثے میں 96 افراد کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والی تحقیقاتی جیوری کا کہنا ہے کہ ان افراد کو غیرقانونی طور پر ہلاک کیا گیا تھا۔

جبکہ ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ان کو انصاف مل کیاگیا ہے۔

لواحقین کی جانب سے مقدمہ لڑنے والے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے سے سچائی کےلیے 27 سالہ جنگ میں ’مکمل طور پر بری‘ ہوگئے ہیں۔

جیوری کی جانب سے سنہ 1989 میں ایف اے کپ کے سیمی فائنل سے پہلے اور بعد میں پولیس کو مکمل طور پر ناکام ٹھہرایا جس کی وجہ یہ افسوسناک واقع پیش آیا تھا۔

اس سانحے کی دو مزید مجرمانہ تحقیقات جاری ہیں جو سنہ 2016 کے اختتام تک مکمل ہوسکتی ہیں۔

میچ کے روز ہونے والے تصادم کی پولیس تحقیقات کر رہی ہے جبکہ ایک اور انکوائری انڈیپنڈنٹ پولیس کمپلینٹس کمیشن (آئی پی سی سی) کی جانب سے بعدازاں رونما ہونے والے واقعات کی تحقیقات کر رہی ہے۔

این برکٹ جو اپنے دوستوں کے ساتھ میچ دیکھنےگئی تھیں ان کا کہنا ہے کہ ہلز بورو کی کہانی ’انسانی المیہ‘ تھا۔

ان کا کہنا تھا: ’یہ غلط بیانی اور جھوٹ کی کہانی بھی ہے، اداروں کے اپنے دفاع کی جانب سے سچ اور انصاف کو شکست کی۔ یہ ساؤتھ یارکشائر پولیس میں تسلیم کرنے کے انکار کی روایت کا ثبوت ہے۔‘

جیوری نے اپنے فیصلے میں ساؤتھ یارکشائر پولیس اور ساؤتھ یارکشائر ایمبولینس سروس کی غلطیوں کو اس روز حادثے کی ’وجہ یا اس میں شامل‘ ہونے ذمہ دار ٹھہرایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hillsborough inquests
Image caption جیوری کی جانب سے سنہ 1989 میں ایف اے کپ کے سیمی فائنل سے پہلے اور بعد میں پولیس کو مکمل طور پر ناکام ٹھہرایا

لیورپول والٹن سے رکن پارلیمان سٹیو روتھرم، جو اس روز ہلزبورو میں موجود تھے، ان کا کہنا تھا: ’اس فیصلے سے انصاف ہوگیا ہے اور اب احتساب کی باری ہے۔‘

ہلاک ہونے والے خاندانوں کی توجہ اب اس جانب ہے کہ کیا سامنے آنے والے حقائق کی روشنی میں مجرمانہ نوعیت کا مقدمہ چلانے کے عمل کا آغاز ہوگا۔

لیورپول اور ناٹنگھم فورسٹ کے میچ کے دوران ہلاک ہونے والوں لے لواحقین ساؤتھ یارکشائر پولیس پر ’انکار کی روایت‘ قائم رکھنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔

سٹیفن رائٹ جن کے 17 سالہ بھائی گراہم اس حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے ان کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ دو برسوں میں سامنے آنے والے ثبوت اچھے خاصے ہیں، اس کے باوجود ساؤتھ یارکشائر پولیس اور ان کے سینیئر پولیس افسران نے اپنی ذمہ داری سے انکار کیا اور دوسروں پر الزام عائد کیا۔‘

حادثے کی آپریشن ریزالو نامی مجرمانہ تفتیش کی سربراہی اسسٹنٹ کمشنر جون سٹوڈارٹ کر رہے ہیں۔

پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ وہ ’اس امر کا جائزہ لے سکتے ہیں کہ موجود ثبوتوں کی بنیاد پر کسی فرد یا ادارے کے خلاف مجرمانہ مقدمہ درج ہوسکتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نگراں کمیٹی کی جانب سے مبینہ مجرمانہ فعل اور پولیس کی جانب سے مبینہ بدسلوکی کی تحقیقات کی جائیں گی

آئی پی سی سی کی جانب سے انصاف کی فراہمی میں خلل ڈالنے، جھوٹے بیان دینے اور سرکاری عہدے کا غلط استعمال کرنے کے جرائم کو شامل کیا جاسکتا ہے۔

اس نے پولیس افسران کے بیانات قلمبند کیے ہیں۔

اس نگراں کمیٹی کی جانب سے مبینہ مجرمانہ فعل اور پولیس کی جانب سے مبینہ بدسلوکی کی تحقیقات کی جائیں گی۔

ساؤتھ یارکشائر پولیس کے چیف کانسٹیبل ڈیوڈ کرومپٹن کا کہنا تھا کہ ان کی فورس کی ’پولیسنگ تباہ کن طور پر غلط‘ تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی فورس نے غیرقانونی طور پر ہلاک کرنے اور مزید تحقیقات کو ’صاف صاف‘ قبول کیا ہے۔

نیویارکشائر ایمبولینس سروس این ایچ ایس ٹرسٹ چیف ایگزیٹیو روڈ برنس کا کہنا ہے کہ وہ جیوری کے فیصلے کو ’مکمل طور پر تسلیم‘ کرتے ہیں کہ غلطیاں کی گئیں، اور وہ ’دلی افسوس‘ کرتے ہیں۔

اسی بارے میں