’شام کے شہر داریا میں صورتحال ابتر‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption داریا میں گذشتہ تین برسوں سے کوئی امداد نہیں پہنچی ہے

اقوام متحدہ کے امدادی حکام کا کہنا ہے کہ شام کے شہر داریا میں حالات کو انتہائی تشویشناک ہیں کیونکہ وہاں خوراک، ادویات اور پینے کے صاف پانی کی شدید قلت ہے۔

شہر میں تقریبا چار ہزار لوگ شامی حکومت کے فوجیوں کے ہاتھوں محصور ہیں۔

٭ شام میں محصور شہریوں کے انخلا کا آغاز

٭ ادلب میں ’شامی فوج کی بمباری‘ سے 44 افراد ہلاک

اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریلیف کوارڈینیٹر سٹیفن او برائن نے جنیوا میں کہا کہ شام کی حکومت نے امداد کی اجازت کے لیے دی جانے والی ’بے شمار درخواستوں کو نظر انداز کر دیا ہے۔‘

یہاں کے باشندوں کو آخری بار نومبر سنہ 2012 کے مہینے میں کوئی امداد پہنچی تھی۔

رواں ماہ کے اوائل میں اقوام متحدہ کے حکام نے وہاں کی ضرورتوں کا جائزہ لیا اور یہ پایا کہ وہاں خوراک، ادویات کی شدید کمی ہے جبکہ پانی کی فراہمی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے جس کے سبب پینے کے صاف پانی کی کمی ہے۔

شہر کی بجلی کو تین سال سے زائد عرصے سے کاٹ دیا گیا تھا۔

مسٹر او برائن نے کہا کہ ’ہم لوگ شام کے حکام پر مسلسل دباؤ ڈالتے رہیں گے کہ وہ ہمیں داریا کے لیے محفوظ اور بغیر روک ٹوک والا راستہ فراہم کرے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption داریا میں پانی کا نظام مکمل طور پر تباہ ہے

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام کی جنگ میں جزوی تعطل کے نتیجے میں 18 میں سے 12 محصور علاقوں میں امداد پہنچائی گئی ہے۔

اور حال ہی میں شمالی قصبے رستان میں امداد پہنچائی گئی ہے جہاں تقریبا سوا لاکھ لوگوں کو ایک سال سے زیادہ عرصے سے کوئی امداد نہیں پہنچی ہے۔

اطلاعات کے مطابق شام میں تقریبا پانچ لاکھ افراد محصور علاقوں میں رہتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے امدادی ایجنسیوں نے چار محصور قصبوں سے تقریبا 500 زخمی افراد کو نکالنے میں کامیابی حاصل کی جس کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ گذشتہ پانچ برسوں کی جنگ میں یہ ایسا سب سے بڑا آپریشن ہے۔

ان میں سے نصف کو حکومت نواز فوجیوں کے ذریعے محصور علاقوں سے نکالاگیا ہے جبکہ باقی نصف کو باغیوں کے محصور علاقوں سے۔

دریں اثنا رواں ماہ کے اوائل میں جنیوا میں دوبارہ شروع ہونے والے امن مذاکرات کو مشکلات کا سامنا ہے اور یہ واضح نہیں کہ آٹھ ہفتوں سے جاری جزوی جنگ بندی قائم رہے گی یا نہیں۔

اسی بارے میں