بجلی نہیں ہے، پانچ دن گھر بیٹھیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رواں سال فروری میں شاپنگ سینٹرز کے اوقاتِ کار میں کمی کر دی گئی تھی

وینیزویلا میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے سرکاری دفاتر میں کام کا دورانیہ ہفتے میں پانچ دن سے کم کر کے صرف دو دن کر دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کی قلت کے دوران اس عارضی اقدام سے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

ملک کے نائب صدر نے اعلان کیا کہ سرکاری ملازمین ہفتے میں دو دن یعنی پیر اور منگل کو دفتر آئیں گے۔

٭بجلی کی کمی، کاراکاس کے شاپنگ سینٹرز کے اوقاتِ کار نصف

وینیزویلا کو بدترین خشک سالی کا سامنا ہے جس کے سبب ڈیموں میں پانی سطح کم ہونے سے بجلی کی پیدوار متاثر ہوئی ہے لیکن حزبِ اختلاف نے اس معاملے میں حکومت پر بدانتظامی کا الزام عائد کیا ہے۔

ہفتے میں دو دن کام کرنے کے فیصلے سے سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے تقریباً 20 لاکھ افراد متاثر ہوں گے۔

نائب صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’سرکاری دفاتر میں بدھ جمعرات اور جمعے کو بہت اہم اور بنیادی اہداف کے علاوہ کام نہیں ہوگا۔‘

ملک میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیےنے حکومت نے پہلے ہی گھڑیاں آگے کر دی گئی تھیں۔ رواں سال فروری میں شاپنگ سینٹرز کے اوقاتِ کار میں کمی کر دی گئی تھی اور انھیں کہا گیا تھا کہ وہ خود اپنی بجلی پیدا کریں۔

اس ہفتے کے آغاز میں حکومت نے بجلی کی طلب کم کرنے کے لیے گھڑیاں آدھا گھنٹہ آگے کر دی تھی جبکہ گذشتہ ہفتے حکومت نے یومیہ چار گھنٹے لوڈ شیڈنگ کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وینیزویلا کو بدترین خشک سالی کا سامنا ہے، ڈیموں میں پانی سطح کم ہونے سے بجلی کی پیدوار متاثر ہوئی ہے

ملک کے صدر نکولیس مودیرو نے کہا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی آل نینو سے اُن کا ملک بری طرح متاثر ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بارشیں معمول کے مطابق ہونے پر حالات بہتر ہو جائیں گے۔

ملک میں بجلی کے بحران سے اقتصادی ترقی متاثر ہوئی ہے۔

وینیزویلا میں کاروباری حضرات، حزبِ مخالف کے سیاست دان کا الزام ہے کہ ملک میں بجلی کے بحران کی وجہ حکومت کی اقتصادی بدانتظامی ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ سنہ 2003 میں ملکی کرنسی کی قدر کو کنٹرول رکھنے کی پالیسی سے اقتصادیات کو بہت نقصان ہوا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے وینیزویلا کی معیشت متاثر ہوئی ہے کیونکہ اُن کی بیشتر درآمدات پیٹرولیم مصنوعات پر مشتمل ہیں۔

اسی بارے میں