قومی سے زیادہ عالمی شہریت کی حمایت

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اس سروے میں 18 ممالک کے 20،000 افراد سے سوالات پوچھے گئے

بی بی سی ورلڈ سروس کے ایک سروے کے مطابق لوگوں نے خود کو قومی سے زیادہ عالمی شہری کے طور پر پہچانے جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جبکہ پاکستان میں مذہب کا اہم کردار نظر آیا۔

یہ رجحان بطور خاص ابھرتی ہوئی معیشت میں دیکھا گیا ہے جہاں لوگ خود کو باہر کی جانب دیکھنے والا اور عالمی ذہنیت کا حامل سمجھتے ہیں۔

ان رجحانات کو جاننے کے لیے گلوب سکین نے 18 ممالک سے تقریبا 20 ہزار افراد سے سوالات کیے۔

بی بی سی کے اس پول میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ قومیت کے اظہار میں مذہب کا کردار کم نظر آیا لیکن پاکستان میں 43 فی صد لوگوں نے کہا ہے کہ وہ سب سے پہلے مذہب کے طور پر اپنی شناخت چاہتے ہیں جو کسی دوسرے ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔

جبکہ انڈونیشیا میں قومیت کے بجائے علاقیت پر زیادہ زور نظر آيا۔

بہر حال جرمنی میں سنہ 2001 کے مقابلے کم لوگوں نے خود کو عالمی شہری کے طور پر دیکھے جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

Image caption عالمی شہریت کے رجحان میں نائجیریا سب سے آگے جبکہ روس سب سے پیچھے ہے

ابھرتی ہوئی معیشت میں نصف سے زیادہ افراد (56 فی صد) نے خود کو کسی ملک کے بجائے سب سے پہلے عالمی شہری کے طور پر دیکھے جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

نائجیریا (73 فی صد)، چین (71 فی صد)، پیرو (70 فی صد) اور انڈیا (67 فی صد) میں اس خواہش کا اظہار بطور خاص واضح تھا۔دوسری جانب صنعتی ملکوں میں یہ رجحان اس کے برخلاف تھا۔

عالمی شہریت آخر کیا ہے؟

جہاں تک سروے میں شناخت کے متعلق سوال ہے تو عالمی شہریت ایک مشکل اصطلاح ہے اور سروے میں اس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئي ہے۔اور لوگوں نے اس کی تعبیر اپنے طور پر کی ہے۔

کسی کے خیال میں یہ دنیا بھر میں ان کے معاشی عمل دخل کا اظہار ہے تو کسی کے لیے دنیا کے مسائل کو مل جل کر حل کرنے کی خواہش جیسے ماحولیاتی تبدیلی یا پھر ترقی پزیر ممالک میں عدم مساوات کے مسائل۔

Image caption سپین اور برطانیہ میں شامی پناہ گزینوں کو قبول کرنے کا رجحان غالب ہے

بہت سے افراد کے لیے یہ ترسیل میں آسانی ہوسکتی ہے جبکہ بہت سے اسے ترک وطن اور آسانی سے ایک ملک سے دوسری ملک جانے سے تعبیر کر سکتے ہیں کیونکہ ہم دوسری جنگ عظیم کے بعد لوگوں کی نقل مکانی سب سے بڑی نقل و حرکت کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

یہ صورت حال صرف جنگ کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ دنیا زیادہ خوشحال ہوئی ہے اور ابھرتے ہوئے متوسط طبقے کے لیے ہوائی سفر کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔

دوسری جانب ترقی یافتہ ممالک میں سنہ 2008 کی عالمی مندی کے بعد عالمی شہریت کے تصور کو دھچکہ پہنچا ہے۔ مثال کے طور پر جرمنی میں صرف 30 فی صد افراد نے خود کو عالمی شہری کے طور پر دیکھے جانے خواہش کا اظہار کیا ہے۔

گلوبل سکین کے لیونل بیلیئر کے مطابق 15 سال کے عرصے میں جب سے یہ پول شروع ہوا ہے یہ عالمی شہری بننے کے لیے جرمن باشندوں کی کم ترین شرح ہے۔

ان کے خیال میں ’اسے آنگیلا میرکل کی دس لاکھ پناہ گزینوں کے لیے جرمنی کا دروازہ کھولنے کے نتیجے میں بدلے ہوئے سیاسی اور جذباتی ماحول کے تحت دیکھنا چاہیے۔‘

Image caption بین مذاہب اور بین نسل شادیوں پر بھی سپین اور برطانیہ آگے ہیں

پول میں 54 فی صد جرمن باشندوں نے شام کے پناہ گزینوں کو قبول کرنے کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ یہ شرح برطانیہ میں زیادہ 72 فی صد رہی حالانکہ وہاں حکومت نے سختی سے شامی پناہ گزینوں کی تعداد پر روک لگا رکھی ہے۔

دوسرے ممالک اور نسلوں میں شادی کے سوال پر جرمن افراد قدرے تذبذب کا شکار تھے جبکہ فرانس میں لوگوں نے مختلف نسل اور مذہبی عقیدے کے لوگوں کے درمیان شادی کی پرجوش انداز میں حمایت کی۔

روس میں سب سے زیادہ اس کی مخالفت دیکھی گئي جہاں 43 فی صد نے اسے یکسر مسترد کر دیا جبکہ سپین میں صرف پانچ فی صد اس کے سخت خلاف نظر آئے۔

براعظم کے لحاظ سے بھی اس معاملے میں اختلاف نظر آئے کینیڈا کے 77 فی صد باشندے شامی پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں جبکہ امریکہ میں یہ شرح 55 فی صد ہے۔

اسی بارے میں