اسرائیل سے متعلق بیان پر ناز شاہ کی معافی

Image caption ناز شاہ کی معطلی کا اعلان ان پر دباؤ پڑنے کے بعد کیا گیا

برطانیہ کی لیبر پارٹی کی جانب سے اسرائیل سے متعلق بیان دینے پر معطل کی گئی رکنِ پارلیمان ناز شاہ نے اپنے بیان پر معافی مانگ لی ہے۔

بریڈ فورڈ ویسٹ سے برطانوی دارالعوام کی رکن بننے والی ناز شاہ کو ان کی اس فیس بک پوسٹ پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ اسرائیل کو امریکہ منتقل ہو جانا چاہیے۔

دارالعوام میں دیے گئے بیان میں ناز نے کہا کہ انھوں نے اس پوسٹ پر تہہ دل سے معافی مانگی ہے اور کہا کہ یہ پوسٹ انھوں نے ایم پی بننے سے پہلے کی تھی۔

اس سے قبل پارٹی کے لیڈر جیریمی کوربن نے اس پوسٹ کو ’ناپسندیدہ اور ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے انھیں خبردار کیا تھا کہ جبکہ ڈیوڈ کیمرون نے ان کی معطلی کا مطالبہ کیا تھا۔

لیبر پارٹی کا کہنا ہے کہ ’جیریمی کوربن اور ناز شاہ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ناز شاہ کو لیبر پارٹی کے جنرل سیکریٹری کی جانب سے انتظامی طور پر معطل کر دیا جائے۔‘

اس کے تحت ’جب تک تحقیقات نہیں ہو جاتیں، وہ پارٹی کی کسی بھی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتیں جبکہ ان سے پارٹی کی ’وِہپ‘ کا عہدہ بھی واپس لے لیا گیا ہے۔‘

ایوان میں معافی مانگتے ہوئے ناز شاہ نےکہا کہ ’یہودیوں سے تعصب رکھنا نسل پرستی ہے۔ بحیثیت رکنِ پارلیمان میں اپنی حیثیت کو مسلمان، یہودیوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے پوری طرح سے استعمال کروں گی۔‘

ناز شاہ پہلے ہی شیڈو چانسلر جان میک ڈونلڈ کی بلامعاوضہ نائب کا عہدہ چھوڑ چکی ہیں۔

ناز شاہ کی معطلی کا اعلان ان پر دباؤ پڑنے کے بعد کیا گیا۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے سوالات کے وقفے کے دوران کہا تھا کہ ’یہ بات بہت غیرمعمولی‘ ہے کہ لیبر پارٹی نے ناز شاہ کے نسل پرستانہ بیان پر ابھی تک ان سے وِہپ کا عہدہ واپس نہیں لیا۔

سوالات کے سیشن سے کچھ ہی دیر قبل کوربن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’یہ میڈیا پوسٹ ماضی کا حصہ بن چکی ہے جو انھوں نے اس وقت کی تھی جب وہ رکنِ پارلیمان نہیں تھیں۔

’وہ ان خیالات کا دفاع نہیں کر رہیں اور تسلیم کرتی ہیں کہ ان کی یہ پوسٹ مکمل طور پر غلط تھی۔ لیبر پارٹی سختی سے یہودیوں سے تعصب اور ہر قسم کی نسل پرستی کی مخالفت کرتی ہے۔‘

ناز شاہ نے 2014 میں فیس بک پر ایک تصویر پوسٹ کی تھی جس میں امریکہ کے نقشے پر اسرائیل کے نقشے کو ابھرتا ہوا دکھایا گیا تھا۔ اس پوسٹ کی سرخی تھی: ’اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کا حل – اسرائیل کو امریکہ منتقل کر دیں۔‘

اس تصویر پر ناز شاہ نے کمنٹ لکھا تھا: ’مسئلہ حل۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ہ ڈیوڈ کیمرون نے ناز شاہ کی معطلی کا مطالبہ کیا تھا

اس پوسٹ سے یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ امریکہ کے پاس اسرائیل کو رکھنے کے بہت زمین موجود ہے اور ایسا کرنے سے فلسطینیوں کو ان کی زمین اور زندگی واپس مل جائے گی۔

اس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اسرائیل کے لوگوں کو امریکہ میں خوش آمدید کہا جائے گا اور وہ وہاں محفوظ بھی ہوں گے، جبکہ ان کو منتقل کرنے کا خرچہ اس سے کم ہی ہو گا جو واشنگٹن تین سال میں اسرائیل کی دفاعی مدد میں خرچ کرتا ہے۔

ناز شاہ نے اس پر ایک اور نوٹ بھی شامل کیا تھا جس میں کہا گیا تھا اس منصوبے سے ’امریکہ کا جیب خرچ بھی بچ جائے گا۔‘

اس پوسٹ کی جانب توجہ گویڈو فاکس ویب سائٹ نے مبذول کروائی تھی۔

ویب سائٹ ہر اس پوسٹ کو بھی نمایاں کیا گیا تھا جس میں ناز شاہ نے اسرائیلی پالیسیوں کو ہٹلر کی پالیسیوں سے مماثل قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں