’ہاتھیوں کی موت افریقی سیاحت کی موت ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

کینیا کے صدر اُہُورُو کنیاٹا نے ہاتھی دانت کی غیر قانونی تجارت کو روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہاتھی دانت کی غیر قانونی تجارت کا مطلب ہاتھیوں کی موت اور سیاحت کا خاتمہ ہے۔

صدر کنیاٹا ہاتھیوں کے قتلِ عام کو روکنے کے لیے منعقد کیے جانے والے اس پہلے اجلاس کی میزبانی کر رہے ہیں جس میں افریقی ممالک کے سربراہوں کے علاوہ سائنسدان اور تاجر بھی شریک ہیں۔

٭ ہتھنی کی موت کے بعد ہاتھیوں کی سواری پر پابندی کا مطالبہ

٭ امریکہ میں ٹنوں ہاتھی دانت تباہ کر دیے گئے

٭ ہاتھی دانت کی تجارت پر پابندی کا امکان

ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ ہاتھی دانت کی غیر قانونی تجارت سے افریقہ کے ہاتھیوں کا وجود دہائیوں کے اندر ختم ہو سکتا ہے۔

کینیا کے صدر سنیچر کو ہاتھیوں کے بارے میں منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس کے خاتمے کے بعد 100 ٹن سے زائد ہاتھی کے ذخائر کو جلا دیں گے۔

صدر اُہُورُو کنیاٹا کہ ایک بیان کے مطابق ’ ہاتھی دانت کے ذخائر کو جلانا میرے لیے خوشی کا باعث ہو گا اور یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں ہاتھی دانت کے غیر قانونی شکاریوں اور ان کے ساتھیوں کو اس سے فائدہ اٹھانے سے روک سکوں۔‘

امید کی جا رہی ہے کہ کینیا میں ہونے والے اس سربراہی اجلاس میں یوگینڈا کے صدر یووری موسینوی اور مغربی افریقی نیشن آف گبون کے صدر علی بانگو شرکت کریں گے۔

ہاتھی دانت کی مقبولیت کئی ہزار سال پرانی ہے۔ اس کی شفافیت، خوبصورتی اور اس سے چیزوں کی تیاری میں آسانی وہ عوامل ہیں جو اسے اس لمبے عرصے سے مقبول رکھے ہوئے ہیں۔

ہاتھی دانت کی مانگ سے نمٹنے اور مارکیٹ کو تباہ کرنا دونوں اہم عوامل ہیں لیکن مردہ ہاتھیوں کو زیادہ قیمتی بنانے کے طریقے بھی موجود ہیں۔

افریقہ کے پارکوں اورگیم ذخائر میں سب سے زیادہ قابل ذکر جانوروں کے ساتھ بند مقابلوں کے ذخائر میں آپ کو صرف وقت، صبر و تحمل اور ایک اچھی نظر کی ضرورت ہوتی ہے۔

کینیا کے صدر کا کہنا تھا کہ افریقہ میں ہاتھیوں کے جھنڈوں کو نئی نسل کے شکاری گھیر رہے ہیں۔

ان کے بقول یہ شکاری پوری طرح مسلح ہوتے ہیں اور ان کا رابطہ بین الاقوامی بازاروں سے رہتا ہے اور اس کے نتائج تباہ کن ہیں۔

اُہُورُو کنیاٹا کے مطابق ہاتھی دانت کی تجارت کا مطلب موت ہے، ہمارے ہاتھیوں کی موت، ہمارا قدرتی ثقافتی ورثہ اور ہمارے سیاحتی سیکٹر کی تباہی۔

ان کا مزید کہنا تھا ہاتھی دانت کی غیر قانونی تجارت کا مطلب افریقی بر اعظم میں دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے فنڈنگ کرنا ہے اور ہمیں اس کی تجارت کو روکنے کے لیے سب کچھ کرنا چاہیے۔

اس اجلاس کو منعقد کروانے والے ایک برطانوی اخبار کے مالک ایوگنی لیبدوف نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ کینیا میں ہونے والے سربراہی اجلاس کا مقصد جانوروں اور انسانوں کے درمیان تنازعات کو ختم کرنے کے لیے سرمایہ اکھٹا کرنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ سنہ 2025 تک ایسی عالی شان مخلوق کا وجود پوری طرح ختم ہو جائے۔

کینیا میں ایک اندازے کے مطابق 4,50,000 سے 5,00,000 ہاتھی پائے جاتے ہیں لیکن ان میں سے تقربیاً 30,000 ہاتھیوں کو ہاتھی دانت کی غیر قانونی تجارت کی وجہ سے ہلاک کر دیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں