شمالی کوریا کے میزائل تجربے پر اقوامِ متحدہ کو تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اقوامِ متحدہ میں چین کے سفیر لیو جیئی نے بتایا ہے کہ سلامتی کونسل شمالی کوریا کی جانب سے دو میزائلوں کے تجربے کے بعد اپنا ردِ عمل تیار کر رہی ہے۔

تبصرہ کاروں کے مطابق یہ تجربے ناکام رہے تھے، تاہم اقوامِ متحدہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ایسی کارروائیاں پابندیوں کے خلاف ہیں اور ’سخت تشویش‘ کا باعث ہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب شمالی کوریا حکمران پارٹی کے ایک شاذ و نادر ہونے والے اجلاس سے قبل اپنی جنگی کارروائیوں میں تیزی لا رہا ہے۔

ایسی علامات بھی ہیں کہ وہ اپناپانچواں جوہری تجربہ بھی کرنے جا رہا ہے۔ جنوری میں شمالی کوریا کے گذشتہ تجربے کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی تھی۔

جنوبی کوریا کے خبررساں ادارے ین ہیپ کے مطابق جنوبی کوریا کے حکام نے کہا ہے کہ جمعرات کو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا تجربہ صبح کے وقت جنوبی ساحلی شہر وونسان کے قریب کیا گیا، تاہم میزائل ’چند سیکنڈ کے بعد زمین پر گر گیا۔‘

شام کے وقت ایک اور تجربے کی نشاندہی ہوئی، لیکن جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ بھی ناکام رہا۔

ماہرین کے مطابق یہ دونوں میزائل درمیانی مدت تک مار کرنے والے ہیں اور انھوں نے ان کو ’موسودان‘ کا نام دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ میزائل تین ہزار کلومیٹر تک مار کر سکتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ یہ جاپان یا پھر امریکی علاقے گوام تک پہنچ سکتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں جاپان کے سفیر موتوہیدے یوشیکاوا نے کہا کہ یہ میزائل ’جاپان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔‘

اقوامِ متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈیویارک نے ایک اخباری کانفرنس کو بتایا کہ شمالی کوریا کے ایسے اقدامات ’سخت تشویش کا باعث ہیں‘ اور کہا کہ اقوامِ متحدہ نے پیونگ یانگ پر زور دیا ہے کہ وہ ’مزید اشتعال انگیز اقدامات سے باز رہے اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا مکمل پاس کرے۔‘

اس سے قبل شمالی کوریا نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ہائیڈروجن بم اور دور تک مار کرنے والے میزائلوں کا تجربہ کیا ہے جس کے بعد اس پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔

اسی بارے میں